جمال خاشقجی قتل کیس میں ملوّث افراد انصاف کے کٹہرے میں، تین سماعتوں میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے انسانی حقو ق کمیشن کے صدر ڈاکٹر بندر العیبان نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کیس میں ملوث مشتبہ افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاچکا ہے ۔ان کے خلاف ایک فوجداری عدالت میں مقدمے کی تین سماعتیں ہوچکی ہیں اور وہ اپنے وکلاء کے ساتھ پیش ہورہے ہیں۔

انھوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم جمال خاشقجی کے قتل پر صدمے سے دوچار ہوگئے تھے ۔یہ ایک ’سنگین جُرم ‘ اور ’بدقسمت واقعہ‘ تھا ‘‘۔

ڈاکٹر العیبان نے کہا کہ ’’سعودی عرب جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کو بین الاقوامی رُخ دینے کے مطالبات کو مسترد کرتا ہے اور اس کو اپنے داخلی امور میں مداخلت سمجھتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ دس سال کے دوران میں کونسل کی انسانی حقوق سے متعلق 453 سفارشات کو کلی یا جزوی طور پر تسلیم کیا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بدھ کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنی رپورٹ شائع کی تھی اور اس میں سعودی عرب کے اقوام متحدہ کے اداروں سے تعاون کا تفصیلی ذکر تھا۔

اس میں لکھا ہے کہ کونسل نے 2009ء میں 70 سفارشات پیش کی تھیں ،ان میں سے سعودی عرب نے 52 کو قبول کیا تھا ۔2013ء میں اس نے 225ء میں سے 151 سفارشات کو قبول کیا تھا۔2018ء میں کونسل نے سعودی مملکت کو 258 سفارشات پیش کی تھیں اور ان میں سے 182 کو اس نے قبول کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں