.

امریکا کے ساتھ جوہری بات چیت معطل کرنے پر غور جاری ہے : شمالی کوریا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ چوئی سون ہوئی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت معطل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق چوئی نے یہ بات جمعے کے روز شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

شمالی کوریا کے سربراہ یم یونگ اُن امریکا کے ساتھ بات چیت سے متعلق اپنے سرکاری موقف کا اعلان کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ نے دوسری ملاقات گزشتہ ماہ ویت نام میں کی تھی۔ ملاقات کا مقصد واشنگٹن کے اس مطالبے پر بات چیت تھی جس میں پیونگ یانگ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے دست بردار ہو جائے تو اس کے مقابل اسے سکیورٹی ضمانت دی جائے گی اور اس پر عائد پابندیوں اٹھا لی جائیں گی۔

تاہم ویت نام میں بات چیت ناکام ہو گئی اور دونوں سربراہان بنا کسی اتفاق رائے کے دوستانہ ماحول میں واپس لوٹ گئے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر کے خصوصی مشیر نے منگل کے روز کہا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ جزیرہ نما کوریا کو بتدریج جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر کام کرے اس لیے کہ "سب کچھ یا کچھ بھی نہیں" کی حکمت عملی بات چیت میں جمود کو توڑنے میں کسی طور معاون ثابت نہیں ہو گی۔ مشیر کے مطابق بات چیت ناکام ہونے کی ذمے داری دونوں فریقوں پر ہے ،،، تاہم لگتا ایسا ہے کہ امریکا نے اچانک سے اپنے موقف میں شدت اختیار کرتے ہوئے شمالی کوریا سے مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا مطالبہ کر ڈالا۔