.

نیوزی لینڈ: دہشت گردی میں دو اردنی اور ایک فلسطینی نمازی شہید

زخمیوں میں سعودی، فلسطینی، اردنی اور ترک باشندے بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لیند میں جمعہ کو دو مساجد میں دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے نمازیوں کا تعلق مختلف مسلمان اور عرب ممالک سے ہے۔ شہداء میں اردن کے دو شہری، ایک فلسطینی جب کہ زخمیوں میں سعودی عرب، فلسطین، اردن اور ترکی کے شہری شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں دہشت گردوں کے مسلح حملے میں 49 نمازی شہید اور 40 سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں قائم سعودی سفارت خانے کے مطابق زخمیوں میں دو سعودی شہری شامل ہیں جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

سعودی سفارت خانے کی طرف سے 'ٹویٹر' پر پوسٹ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپتالوں میں لائے گئے زخمیوں میں سے دو کے سعودی شہری ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ سفارتی عملہ ان کی نگرانی، عیادت اور دیکھ بھال کر رہا ہے۔ دونوں زخمیوں کے بارے میں مکمل تفصیلات اور ان کی طبی کیفیت کے بارے میں جلد معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔

نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردی کے واقعے پر عالم اسلام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اردنی حکومت نے نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کو دہشت گردی کا سفاکانہ فعل قرار دیا۔

اردنی خاتون وزیر مملکت برائے خارجہ امور جمانہ غنیمات نے کہا کہ عبادت گاہوں پر حملے وحشیانہ دہشت گردی ہے اور اردن نیوزی لینڈ میں پیش آنے والے واقعے کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں مساجد میں نمازیوں کا قتل عام دہشت گردی کی بدترین شکل ہے۔