.

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں: ریاض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے نگران ذرائع نے مملکت کی جانب سے جنوبی نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے دوران نمازیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے میں دسیوں نمازی شہید اور زخمی ہوئے تھے۔

دفتر خارجہ کے ذرائع نے یہ بات زور دے کر کہی کہ سعودی عرب دہشت گردی کی تمام شکلوں اور حالتوں کی مذمت کرتا ہے۔ یہ مذمت دہشت گردی کرنے والے کے رنگ، نسل اور مذہب سے بالا تر ہو کر کی جاتی ہے کیونکہ مملکت سمجھتی ہے کہ دہشت گرد کا کوئی وطن اور مذہب نہیں ہوتا۔

بیان میں سعودی عرب کی جانب سے مذاہب کے احترام کی اپیل کرتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں لقمہ اجل بننے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور نیوزی لینڈ کی دوست حکومت اور عوام کے لئے نیک خواہشات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا بھی کی گئی ہے۔

مساجد حملے میں ایک سعودی شہری زخمی

درایں اثنا نیوزی لینڈ میں سعودی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر کئے جانے والے دہشت گرد حملوں میں ایک سعودی نوجوان اصیل الانصاری بھی زخمی ہوا ہے۔

اصیل الانصاری کی ٹانگ میں اس وقت گولی لگی جب وہ جان بچانے کی خاطر مسجد سے باہر نکل رہا تھا۔ ’العربیہ‘ نیوز چینل سے ہسپتال سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ حملہ آور نے سب سے پہلے امام مسجد پر گولی چلائی۔ ایک سوال کے جواب میں اصیل الانصاری کا کہنا تھا کہ پولیس حملے کے کافی دیر بعد پہنچی۔

ٹویٹر پر سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم جنوبی جزیرے کرائسٹ چرچ نماز کے دوران مسجدوں پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد وشمار تفصیل دیکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فائرنگ سے ایک سعودی شہری بھی زخمی ہوا ہے۔

سفارتخانے نے نیوزی لینڈ میں موجود سعودی شہریوں کو احتیاط اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ اور حکومت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے غیر ضروری گھروں سے نکلنے سے گریز کیا جائے۔ سفارتخانے نے ہنگامی صورت میں رابطے کے لئے ایک نمبر بھی اپنے شہریوں کو بھیجا ہے۔