.

ایران میں ہزاروں فن کاروں پر خفیہ پابندی کا انکشاف

سرکاری انٹیلی جنس اداروں کی شوبز کے شعبے میں بھی مداخلت بڑھنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ریڈیو ایںڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سابق چیئرمین محمد سرفراز نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ہزاروں فن کاروں، فلمی ستاروں اور فلم سازوں کے ملک میں کام کرنے یا اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں‌ کے اظہار پر خفیہ پابندی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے کسی عہدیدار کی طرف سے ایرانی شوبز کے بلیک لسٹ کئے جانے کا یہ پہلا انکشاف ہے۔ محمد سرفراز نے انکشاف کیا کہ یہ پابندیاں ایرانی انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے عاید کی گئی ہیں جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے عمل میں‌ براہ مداخلت ہے حالانکہ یہ شعبہ ایرانی سپریم لیڈر آیات اللہ علی خامنہ کو براہ راست جوابدہ ہے۔

اخبار' شرق' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی عہیدار کا کہنا تھا کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے چھوٹے بڑے کام میں مداخلت کرتے ہیں۔ ایران میں ڈرامہ، فلم سازی اور ٹی وی سیریز کے ہزاروں اداکاروں پر پابندی عاید ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد سرفراز نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے باعث مئی 2016ء کو اپنے عہدے سے 18 ماہ کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

خیال رہے کہ محمد سرفراز سنہ 2012ء سے بین الاقوامی بلیک لسٹ میں بھی شامل ہے اور اس پر ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ سرفراز ایران میں انگزیزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے 'پریس ٹی وی ' کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس چینل پر قیدیوں سے تشدد کے ذریعے لیے گئے اعترافی بیانات نشر کیے جاتے رہے ہیں۔