.

حوثی ملیشیا کی الریاض اور ابو ظبی پر حملوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے سعودی دارالحکومت الریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی پر میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے۔

حوثی ملیشیا کے ترجمان یحییٰ ساری نے ہفتے کے روز المسیرہ چینل سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارے پاس دشمن کی فضائی تصاویر ہیں اور درجنوں ہیڈ کوارٹرز ، تنصیبات اور فوجی اڈوں کے بارے میں معلومات ہیں۔سعودی دارالحکومت اور ابو ظبی ہماری فورسز کے نشانے پر ہیں‘‘۔

انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’ہم نے جدید لڑاکا طیارے تیار کرلیے ہیں اور یہ نیا نظام بہت جلد فعال ہوگا‘‘۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغی ماضی میں سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض سمیت سرحدی شہروں اور قصبوں کو بیلسٹک میزائلوں کے سیکڑوں حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔ انھوں نے ابوظبی اور دبئی کے ہوائی اڈوں پر بھی میزائل داغنے کے دعوے کیے تھے۔

سعودی عرب کی فضائیہ نے اب تک یمن سے حوثی شیعہ باغیوں کے داغے گئے سیکڑوں میزائلوں کو ناکارہ بنا یا ہے۔ایک میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ایک شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔متحدہ عرب امارات نے اپنے ہوائی اڈوں پر حوثی ملیشیا کے ڈرون حملوں کی تردید کی ہے۔

حوثی ملیشیا کے ترجمان نے الریاض اور ابو ظبی پر حملوں کی یہ تازہ دھمکی ایسے وقت میں دی ہے جب اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس دسمبر میں سویڈن میں طے شدہ امن سمجھوتے کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ سے حوثیوں کے انخلاء اور فورسز کی از سر نو تعیناتی کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کام کررہے ہیں۔

حوثیوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمنی حکومت کے ساتھ طے شدہ اس سمجھوتے میں الحدیدہ سے انخلا پر اتفاق کیا تھا لیکن انھوں نے ابھی تک وہاں سے اپنے جنگجوؤں کو نہیں ہٹایا ہے اور وہ آئے دن جنگ بندی کی بھی خلاف ورزیاں کرتے رہتے ہیں۔