.

کرائسٹ چرچ دہشت گردی کا مرتکب ’قتل عام‘ کے جرم میں کٹہرے میں

ملزم 5 اپریل تک پولیس کے حوالے، ضمانت پر رہا نہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 50 نمازیوں کو شہید اور بڑی تعداد کو زخمی کرنے والے آسٹریلوی دہشت گرد برنٹن ٹارنٹ کوعدالت میں پیش کردیا گیا۔ اٹھائیس سالہ دہشت گرد کے خلاف شہر کی عدالت میں نمازیوں کے وحشیانہ قتل عام کی پاداش میں مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی۔ ملزم کو 5 اپریل تک پولیس کی حراست میں رکھا جائے گا اور اس کی ضمانت پر رہائی نہیں کی جائے گی۔

انتہا پسندانہ خیالات رکھنے والے برنٹن کو گذشتہ روز ہتھکڑیوں اور قیدیوں والی سفید شرٹ پہنے عدالت لے جاتے دیکھا گیا۔ اس کی طرف سے ابھی تک ضمانت پر رہائی کی درخواست نہیں کی گئی۔ وہ پانچ اپریل تک عدالت میں پیشی تک قید رہے گا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسینڈا ارڈیرن نے کرائیسٹ چرچ میں جمعہ کے روز دو مساجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے مجرم کے حوالے سے مزید معلومات بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرم کا سابقہ ریکارڈ مشکوک نہیں تھا۔ اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کیا مگر اسے جرم کے لیے استعمال کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم آسٹریلوی شہری ہے۔ یہ نیوزی لینڈ سے متعدد بار دوسرے ملکوں کے سفر پر جاتا رہتا تھا۔ اس حوالے سے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ نیوزی لینڈ میں طویل مدت تک قیام پذیر نہیں رہا۔ ملزم کے بارے میں آسڑیلوی حکومت کے پاس بھی کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کی تفصیل میسر نہیں۔

کرائسٹ چرچ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مساجد پر حملوں کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس کیس میں مزید تین افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں انتہا پسندوں اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ کرائسٹ چرچ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں موجود مساجد کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس ہائی الرٹ ہے اور شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اس کے علاوہ مساجد میں دہشت گردی کے واقعے کے بارے میں سے معلومات شیئر کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔