.

خیراتی کاموں اور خواتین کے حقوق کے لیے زندگی وقف کردینے والی سعودی شہزادی البندری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شاہ خالد خیراتی فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) شہزادی البندری بنت عبدالرحمان بن الفیصل بن عبدالعزیز کو دارالحکومت الریاض کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ان کی نمازِ جنازہ الریاض میں امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ہفتے کے روز نماز ِ عصر کے بعد ادا کی گئی۔ شاہی دیوان کے ایک بیان کے مطابق وہ جمعہ کو انتقال کر گئی تھیں۔

مرحومہ شہزادی البندری سعودی عرب کے متعدد غیر منافع بخش اداروں کی رکن تھیں یا ان کی سربراہ رہی تھیں۔ وہ خواتین کی خیراتی تنظیم ، افتا سوسائٹی اور سعودی عرب کی خواتین کو ایوارڈ دینے والی جیوری کی رکن تھیں۔ مرحومہ سعودی عرب میں خیراتی کاموں کے لیے ایک علامت کے طور پر جانی جاتی تھیں۔

شہزادہ البندری سعودی عرب کے تیسرے فرماں روا شاہ فیصل بن عبدالعزیز کی پوتی اور والدہ کی جانب سے چوتھے فرماں روا شاہ خالد کی نواسی تھیں ۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔انھوں نے انگریزی ادب میں بیچلر ڈگری جامعہ شاہ سعود، الریاض سے حاصل کی تھی ۔انھوں نے امریکا کی معروف دانش گاہ ہارورڈ کے جان ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ سے پبلک پالیسی میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی تھی۔

وہ ’شغف‘ پروگرام کی شریک بانی اور الریاض میں قائم النہضہ خیراتی سوسائٹی برائے خواتین کی رکن تھیں ۔ان کے کزن شہزادہ طلال بن محمد العبداللہ الفیصل آل سعود نے العربیہ انگریزی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مرحومہ شہزادی البندری کو کئی حوالوں سے اولیّت حاصل تھی۔یہ شاہ خالد فاؤنڈیشن ہو یا دوسری تنظیموں کے ساتھ شراکت داری،ان کا ہمیشہ مقصد حاجت مندوں کو تحفظ مہیا کرنا رہا تھا‘‘۔

انھوں نے شاہ خالد فاؤنڈیشن کی سی ای او کی حیثیت سے سعودی عرب کو درپیش سماجی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئے نئے حل پیش کیے تھے۔اس فاؤنڈیشن کا اہم ترین پروگرام ’’اب مزید ناروا سلوک‘‘ نہیں تھا۔ یہ سعودی گھرانوں میں خواتین کو تشدد سے بچانے کے لیے برپا کی گئی پہلی منظم مہم تھی اور اس کا مقصد خواتین کو تشدد سے بچانے کے لیے معاشرتی اور سیاسی سطح پر شعور اجا گر کرنا تھا۔

فاؤنڈیشن نے یہ مہم 2013ء میں شروع کی تھی۔اس کا مقصد مقامی سطح پر عوام وحکام کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف دلانا تھا ۔ابتدا میں اس کی خبریں صرف مقامی اخبارات میں شائع ہوئی تھیں یا فاؤنڈیشن کے سوشل میڈیا کے صفحات پر اس کی خبریں جاری کی جاتی تھیں لیکن اس مہم نے بہت جلد بین الاقوامی میڈیا کی بھی توجہ حاصل کر لی تھی۔

شہزادہ طلال نے بتایا کہ ’’ وہ کسی بھی ایسے موضوع پر بات کرنے سے گھبراتی یا خوف زدہ نہیں ہوتی تھیں ،جن پر انھیں ضرور بولنا چاہیے تھا۔انھوں نے سعودی عرب میں برسوں قبل گھروں میں خواتین سے ناروا سلوک کے خلاف گفتگو شروع کی تھی جب اس طرح کے موضوعات پر گفتگو کرنے سے بڑے بڑے گھبراتے تھے‘‘۔

واضح رہے کہ شہزادی البندری کے زیر قیادت شاہ خالد فاؤنڈیشن ہی نے 2013ء میں ’’خواتین اور بچوں سے ناروا سلوک کےا متناع کے قانون ‘‘ کا مسودہ پیش کیا تھا اور سعودی حکومت نے اس کی منظوری دی تھی اور اس کو نافذ کردیا تھا۔سترہ دفعات پر مشتمل اس قانون کے تحت خواتین اور بچوں سے نفسیاتی یا جسمانی ناروا سلوک کے مرتکبین کو قصور وار ثابت ہونے کی صورت میں ایک سال تک قید کی سزا اور 50 ہزار ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

مرحومہ نے سعودی عرب میں لوگوں کو غُربت کی لکیر سے نکالنے میں تحقیق کے ذریعے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔انھوں نے اس مقصد کے لیے پروگرام شروع کیا تاکہ غربت سے نکلنے والے لوگ دوبارہ اس بھنور میں نہ پھنسیں ۔شہزادی البندری کی فاؤنڈیشن نے 2016ء میں بل اور ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر’’ شغف ‘‘ کے نام سے ایک فیلو شپ پروگرام شروع کیا تھا۔اس کے تحت کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں ہرسال سمر اسکول کے لیے گیارہ نوجوان سعودیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔انھیں گیٹس فاؤنڈیشن میں انٹرشپ کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔