تُرکی نے مصرحوالگی کے لیے 12 اخوان کارکن گرفتار کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی پولیس نے اخوان المسلمون کے 12 نوجوان کارکنوں کو ترکی میں قیام کے حوالے سے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں حراست میں لینے کے بعد انہیں مصر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ذرائع کے حوالےسے بتایا کہ ترک پولیس نے استنبول میں قواعد کی خلاف ورزی کی پاداش میں 12 اخوانی کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر دہشت گرد اور جہادی تنظیموں کے ساتھ وابستگی اور اخوان المسلمون سے منحرف ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ گرفتار مصریوں میں عمرو عکاشہ نامی ایک نوجوان شامل ہے جس نے ایک ترک لڑکی سے شادی کر رکھی ہے۔ وہ لڑکی ترکی میں حکومت کے ایک سینیر عہدیدار کے دفترمیں کام کرتی ہے۔ عمرو عکاشہ کو بھی مصر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترکی میں جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، وہ مصر کی عدالتوں کی طرف سے اشتہاری قرار دیے گئے ہیں۔ انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں عمر قید با مشقت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر اخوان کے کارکنوں نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس میں ترکی حکومت سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ مصر کو مطلوب اخون کارکنوں کو قاہرہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ واپس لے۔ سوشل میڈیا پر اخوان المسلمون کی قیادت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ نوجوانوں کی مصر حوالگی روکنے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔

خیال رہے کہ ترکی محمد عبدالحفیظ حسین نامی ایک نوجوان کو پہلے ہی مصر کے حوالے کرچکا ہے۔ حسین پر الزام تھا کہ اس نے اخوان المسلمون کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایک انتہا پسند مذہبی تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں