کینیا میں ایرانی القدس ملیشیا کےدو ارکان کو 15 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران پاسداران انقلاب کی سمندر پارعسکری کارروائیوں کی آپریشنل یونٹ 'فیلق القدس' کے دو ارکان کو کینیا میں دہشت گردی کے ایک مقدمے میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

'دی سٹار' ویب سائیٹ کی رپورٹ کےمطابق فیلق القدس کے احمد ابو الفتحی اور مسید منصور موسوی پر 6 مئی 2016ء کو پہلی بار فرد جرم عاید کی گئی تھی، جس میں انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا تھا۔ انہیں جلد ہی 'کامیتی' جیل منتقل کردیا جائے گا جہاں وہ بقیہ قید کے 10 سال کاٹیں گے۔ اس کے بعد انہیں ایران بے دخل کردیا جائے گا۔

کینیا کے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ نیروبی میں ایرانی سفیر ھادی فرجواند کو بھی کچھ دیرکے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر فیلق القدس کے ارکان کو بیرون ملک لے جانے کی کوشش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

کینیاکے پراسیکیوٹرجنرل نورالدین حاجی نے ایرانی سفیر پر الزام عاید کیا کہ وہ تہران حکومت کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے کینیا کے حکام کے علم میں لائے بغیر فیلق القدس کے دو عناصر کو ملک سے نکالنا چاہتے تھے۔

ایرانی سفیر کے فیلق القدس کے ارکان کو بیرون ملک لے جانے کا انکشاف اس وقت ہوا جب کینیا کی پولیس نے دو مقامی سہولت کاروں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی۔ انہوں نے اس کام میں مدد کے لیےایرانی سفیر سے رقم حاصل کی تھی اور دونوں کینیا کی وزارت داخلہ کے دو ملازم ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایرانی سفیر کو یقین تھا کہ وہ 8 فروری کو مشتبہ دہشت گردوں کو نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر ریفر سائیڈ میں فضائی کمپنی کے دفتر سے انہیں ہوائی جہاز کے تین ٹکٹ خرید کرتے ہوئے پایا گیا۔ ان میں دو ٹکٹ احمد ابو الفتحی محمد اورسید منصور موسوی کے ٹکٹ بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں