.

ایتھوپیا کے طیارے کے کپتان نے حادثے سے چند منٹ قبل کیا کہا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ اتوار کے روز ایتھوپیا کے مسافر طیارے کے اندوہ ناک حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں دارالحکومت ادیس ابابا سے تعلق رکھنے والے 17 افراد کی آخری رسومات ان کے آبائی شہر میں ادا کر دی گئیں۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی جاتے ہوئے گر کر تباہ ہونے والے بوئنگ 737 میکس کے حادثے میں مجموعی طور پر 30 ملکوں کے 157 شہری لقمہ اجل بن گئے۔

ایتھوپیا میں ریڈ کراس تنظیم کو ایسی لاشیں نہیں ملیں جن کی شناخت کی جا سکے۔ اس کے بعد ایتھوپیا کی قومی فضائی کمپنی نے مسافروں کے لواحقین کو علامتی نعشیں حوالے کر دیں جو جائے حادثہ کی مٹی پر مشتمل تھیں۔ فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ لاشوں کی شناخت کے عمل میں 6 ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ملک میں ریڈ کراس کے سربراہ کا کہنا کہ حادثے کے نتیجے میں طیارہ 100 سے زیادہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور امدادی اہل کاروں کو لاشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے سوا کئی چیز نہیں ملی۔

ایتھوپیا کی فوج کے انجینئرنگ یونٹ کے ماہرین نے باور کرایا ہے کہ بد قسمت طیارہ 480 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ زمین سے ٹکرایا۔ اس کے نتیجے میں بھڑکنے والی زور دار آگ نے تمام مسافروں کے اجسام کو جلا کر پگھلا دیا۔ حادثے کے وقت طیارے میں 120 لیٹر ایندھن موجود تھا جس کے جلنے پر درجہ حرات 1400 سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔

ادھر ساحلی شہر مومباسا میں طیارے کے کپتان یارد گٹاچو کے خاندان نے اسلامی شریعت کے مطابق اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ یارد 2017 میں ایتھوپیا کی قومی فضائی کمپنی کے ساتھ وابستہ ہوا تھا۔ اس کے فضائی گھنٹوں کی تعداد 8 ہزار کے قریب پہنچ گئی تھی۔

ایتھوپیا کے چینل 3 نے حادثے سے صرف 3 منٹ قبل طیارے کے کپتان اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان ہونے والی گفتگو کا انکشاف کیا ہے۔ اس ریکارڈ شدہ بات چیت میں کپتان یارد کا کہنا تھا کہ "طیارے کا کمانڈ سسٹم ایمرجنسی کے اعلان کو قبول نہیں کر رہا ہے"۔

کپتان نے واپسی کا مطالبہ کیا جس پر ایئر ٹریفک کنٹرول نے فوری طور پر واپسی کی اجازت دی۔ تاہم طیارے کے کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو آگاہ کیا کہ مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اور طیارے کا کمانڈ کنٹرول سسٹم معطل ہو چکا ہے۔

اس سے پہلے کہ کپتان طیارے کے پہیّے اور اضافی پروں کو کھولنے سے متعلق ایئر ٹریفک کی ہدایت پر عمل کرتا ،،، کپتان یارد نے دہشت زدہ آواز میں جواب دیا کہ "میں کنٹرول کھو چکا ہوں۔ ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ اللہ تعالی ہماری اور مسافروں کی بخشش فرمائے"۔