.

ایران اپنی عدالت میں امریکا کے خلاف پابندیاں عاید کرنے پر مقدمہ چلائے گا: حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کی اپنے ملک کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو ’’انسانیت مخالف جرائم ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران امریکی حکام کے خلاف قوم پر مشکلات مسلط کرنے کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کرے گا اور اپنی عدالت میں مقدمہ چلائے گا۔

حسن روحانی نے سوموار کوسرکاری ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر کی گئی تقریر میں کہا ہے کہ امریکا کی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے اور افراط ِ زر کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے لیکن حکومت ان مشکلات پر قابو پا لے گی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے وزیر خارجہ اور وزیر عدل کو ایران پر پابندیاں عاید کرنے کے ذمے دار امریکیوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کا حکم دیا ہے ۔یہ پابندیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر ایرانی عدالت نے امریکی حکام کے خلاف فیصلہ دیا تو پھر ایران عالمی عدالتِ انصاف میں یہ مقدمہ دائر کرے گا۔

انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا :’’ امریکیوں کا ایک ہی مقصد ہے ،وہ ایران میں واپس آنا اور دوبارہ اس قوم پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں‘‘۔انھوں نے ایران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ امریکا ان پابندیوں کے ذریعے حکومت کا دھڑن تختہ چاہتا ہے اور اس کی جگہ امریکی پالیسیوں سے ہم آہنگ حکومت لانا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا تھا اور نومبر میں اس کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان پابندیوں میں ایران کے بنک کاری نظام ، تیل اور بین الاقوامی تجارت کو ہدف بنایا گیا ہے ۔ایران صرف خوراک کی اشیاء اور ادویہ بلا روک ٹوک درآمد کرسکتا ہے لیکن باقی اشیاء کی درآمد پر پابندی ہے یا پھر وہ مہنگے داموں درآمد کرسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے وقت کہا تھا کہ یہ ایران کے میزائل پروگرام کو روک لگانے میں ناکام رہا ہےاور ایران مشرقِ اوسط کے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے بھی باز نہیں آیا ہے۔اس کے جوہری سرگرمیوں کو منجمد کرنے کے وعدے کے بدلے میں امریکا نے عاید کردہ معاشی پابندیاں ختم کی تھیں لیکن ایران نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے۔