.

ایران نے کرد جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی سے متعلق ترک بیان کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ترک وزیر داخلہ کے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی سے متعلق بیان کی تردید کردی ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے قبل ازیں سوموار کو وزیرداخلہ سلیمان سوئلو کے ایک بیان کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ ترک فوج نے ایران کے ساتھ مل کر ملک کی مشرقی سرحد پر پی کے کے کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

ترکی نے حال ہی میں ایران کے ساتھ کالعدم کرد گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ آپریشن کے بارے میں بات چیت کی تھی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ترک عہدہ دار نے کرد باغیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی تصدیق بھی کی ہے۔

تاہم سلیمان سوئلو نے واضح طور پر نہیں کہا کہ پی کے کے کے کن اہداف کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔البتہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق کے شمال میں پی کے کے کے خفیہ ٹھکانوں کو حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ ترک فوج پہلے ہی عراق کے شمال میں واقع قندیل کے پہاڑی سلسلے میں پی کے کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتی رہتی ہے۔ایرانی سکیورٹی فورسز اپنے سرحدی علاقے میں پی کے کے سے وابستہ ایک اور کرد گروپ پارٹی فری لائف آف کردستان کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کرچکی ہیں۔ان دونوں گروپوں کے پڑوسی ملک عراق میں خفیہ ٹھکانے موجود ہیں ۔