.

قطرکا ترکی سے 100 ٹینکوں کی خریداری کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور قطر کے درمیان دفاعی معاہدے میں دوحہ کو ترکی کےتیار کردہ ٹینکوں کی بڑی تعداد بھی خریدنا ہوگی۔ اس ضمن میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ نے انقرہ کے ساتھ ترکی کے 100 ٹینکوں کی خریداری کی ڈیل کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ کے مطابق ترکی کی حکمراں جماعت'آق' کے نائب صدر علی احسان یافوز نے بتایا کہ دوحہ دو طرفہ معاہدے کے تحت ترکی سے 100 ٹینک خرید کرنے کا پابند ہے۔

ترکی اخبار'ڈیلی الصباح' کے مطابق قطر نے ترکی سے BMC آرمرڈ فورسز گاڑیاں اور 40 Altay طرز کے ٹینک دو سال کے عرصے میں خرید کرنے ہیں۔مجموعی طورپر قطر ترکی سے فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت 250 بھاری جنگی آلات خرید کرے گا۔

تا حال قطر اور ترکی میں اس غیرمعمولی ڈیل کی قیمت سامنے نہیں آئی۔ ترکی میں Altay دفاعی پروجیکٹ اپنی نوعیت کا ٹینکوں کی تیاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ ٹینک الیکٹرانک کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے لیس ہوگا اور اس پر 120 ملی میٹر دھانے والی بندوق، بکتربند شیلڈ اور دیگر دفاعی آلات نصب ہوں گے۔

اس ٹینک کی ترکی میں قومی سطح پر 2011ء میں پہلی بار نمائش کی گئی تھی۔ اس کے بعد ترکی اور قطر کے درمیان ایک خفیہ دفاعی معاہدہ طے پایا جس کے تحت قطر نے ترکی کو اپنی سرزمین پر ایک بڑا فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی ہے۔

"Altay " ٹینک کے مستقبل پر سوالیہ نشان

ویب سائیٹ "ڈیفینس نیوز" نے 13 نومبر 2018ء کو اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں ترکی کے تیار کردہ "Altay " ٹینکوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگایا۔ رپورٹ کے مطابق Altay ٹینک اگرچہ ترکی میں تیا کیا گیا ہے مگر اس کے پرزہ جات دوسرے ممالک سے لائے جاتےہیں۔ رپورٹ کے مطابق نو نومبر 2018ء کو ترکی اور قطر کے درمیان ٹینکوں کا معاہدہ ہوا مگر اس طرح کے سودے بعض اوقات ممالک کے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔۔ اس ٹینک کا انجن اور بکس جرمنی ساختہ ہیں۔ اس لیے ترکی اس وقت تک قطر کے ساتھ اس کی کوئی ڈیل نہیں کرسکتا جب تک جرمنی سے اس کی اجازت حاصل نہ کرے۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی نہیں چاہے گا کہ اس کا ٹینک شام اور عراق میں استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ جن ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ کشیدگی پائی جاتی ہے یہ ٹینک وہاں بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر جرمنی ان ٹینکوں کے انجن اور دیگر پرزہ جات فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے تو ترکی کے پاس روس یا یوکرائن سے اس کے انجن حاصل کرنا پڑیں گے۔ مگر ان انجنوں اور دیگر پرزہ جات کو نصب کرنے کے لیے ٹینکوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی نے "Altay " ٹینک کی ٹیکنالوجی جنوبی کوریا کے 'K2 Blach Panthe' سے حاصل کی ہے مگر ترکی کے ٹینکوں کا بیرومی ڈھانچہ مختلف ہے۔ اس کی کارکردگی بہتر بنانے لیے اس میں مزید تبدیلیوں کی بھی اشدت ضرورت ہے۔