.

نیوزی لینڈ :نمازیوں پر حملے کی فوٹیج انٹرنیٹ پر براہ راست دکھانے پر لڑکے کے خلاف فردِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں عدالت نے ایک ا ٹھارہ سالہ لڑکے کو فائرنگ کے واقعے کی ویڈیو کی انٹرنیٹ پر تشہیر کے الزام میں ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس لڑکے پر گذشتہ جمعہ کو نمازیوں پر سفید فام دہشت گرد کی اندھا دھند فائرنگ کی فوٹیج کو انٹرنیٹ پر براہ راست نشر کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

پولیس نے اس لڑکے کو جمعہ کو گرفتار کر لیا تھا لیکن نے کہا تھا کہ یہ کرائس چرچ میں دومساجد پر نمازِ جمعہ کے وقت حملے میں براہ راست ملوث نہیں ہے ۔ان دونوں مساجد میں فائرنگ سے نو پاکستانیوں سمیت 50 افراد شہید اور پچاس ہی زخمی ہوگئے تھے۔

اس لڑکے پر دہشت گرد کی فوٹیج براہ راست شئیر کرنے کے علاوہ حملے کی زد میں آنے والی ایک مسجد کی تصویر پوسٹ کرنے کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس نے اس تصویر کے ساتھ یہ پیغام پوسٹ کیا تھا:’’ ہدف حاصل کر لیا گیا‘‘۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق اس نے تشدد کی شہ دینے پر مبنی پیغامات بھی پوسٹ کیے تھے۔

جج نے اس کی ضمانت کے لیے دائرکردہ درخواست مسترد کردی ہے اور اب اس کو آیندہ ماہ دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس لڑکے کے خلاف پہلے دوسری نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی توہین پر مبنی مواد شائع کرنے کے الزام میں فردِ جُرم عاید کی گئی تھی لیکن بعد میں اس الزام کو واپس لے کر دو نئے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

دونوں مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ کرنے والے سپر ماسِسٹ دہشت گرد 28 سالہ آسٹریلوی برینٹن ٹیرینٹ کے خلا ف قتل کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس کو مزید تحقیقات کے لیے ریمانڈ میں دے دیا گیا ہے اور ا ب اس کو 5 اپریل کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تب اس کے خلاف مزید الزامات میں بھی فرد جرم عاید کی جائے گی۔

ادھر آسٹریلیا میں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے سوموار کو علی الصباح اس سفید فام دہشت گرد ٹیرینٹ سے تعلق پر دومکانوں میں تلاشی کی کارروائی کی ہے۔یہ دونوں مکان نیو ساؤتھ ویلز میں دو قصبوں سینڈی بیچ اور لارنس میں واقع ہیں ۔یہ دونوں قصبے گریفٹن شہر کے نزدیک واقع ہیں جہاں برینٹن ٹیرینٹ پلا بڑھا تھا۔

پولیس نے ایک نشری بیان میں کہا ہے کہ اس سرگرمی کا بنیادی مقصد ایسے مواد کا باضابطہ حصول تھا جس سے نیوزی لینڈ میں پولیس کو اپنی جاری تحقیقات میں مدد مل سکے۔اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیرینٹ کا خاندان پولیس سے تعاون کررہا ہے۔

خودساختہ سفید فام سپرماسِسٹ نے اپنی نوجوانی گریفٹن ہی میں گزاری تھی لیکن وہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں اکثر وبیشتر بیرون ملک جاتا رہا تھا۔حالیہ برسوں کے دوران میں وہ نیوزی لینڈ کے شہر ڈر ینڈن میں منتقل ہو گیا تھا۔آسٹریلوی وزیر داخلہ پیٹر ڈوٹن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس ملزم نے گذشتہ تین سال کے دوران میں صرف 45 دن اپنے آبائی ملک میں گزارے تھے اور اس کا نام دہشت گردی کی کسی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔