.

ڈچ شہر اُتریخت میں مسلح شخص کی فائرنگ ، تین افراد ہلاک ، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیدر لینڈز کے شہر اُتریخت میں سوموار کی صبح ایک مسلح شخص نے مختلف مقامات پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔

اُتریخت کے مئیر جان وان زینن نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں ایک ٹرام میں فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تین زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ’’ ہم اس اصول پر کام کررہے ہیں کہ یہ دہشت گردی کا حملہ ہے‘‘۔

ڈچ خبررساں ایجنسی اے این پی کے مطابق مشتبہ ملزم نے پہلے اُتریخت شہر کے وسطی علاقے کے باہر ایک ٹرام میں فائرنگ کی تھی اور پھر وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ اس کے بعد پولیس نے ٹرام اسٹیشن سے باہر تمام چوک کا محاصرہ کر لیا ہے ۔

نیدرلینڈز کی انسداد دہشت گردی پولیس نے مسلح حملہ آور کی تلاش شروع کردی ہے۔اس نے شہر کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں محدود رہیں اور حملہ آور کے نزدیک آنے سے گریز کریں ۔

پولیس نے ٹرام میں فائرنگ کرنے والے اس مشتبہ ملزم کی تصویر اور شناخت جاری کردی ہے۔ وہ ترک نژاد 37 سالہ نوجوان ہے اور اس کا نام گولمین تانس بتایا گیا ہے۔

ٹرام میں فائرنگ کے بعد متعدد ہیلی کاپٹروں کو امدادی سرگرمیوں کے لیے جائے وقوعہ پر بھیج دیا گیا تھا۔پولیس بھی اس واقعے میں دہشت گردی کے مبینّہ محرک کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔

پولیس نے شہر میں تمام اسکولوں کو اپنے دروازے بند رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔ڈچ وزیراعظم مارک روٹے کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد حکومت پیدا شدہ ہنگامی صورت حال پر غور کررہی ہے ۔اس نے پورے صوبہ اُتریخت میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند ترین کردی ہے اور فائرنگ کے بعد اُتریخت شہر میں اسکولوں ، مساجد ،ٹرانسپورٹ کے مراکز اور ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔