الجزائر : اپوزیشن کا فوج سے آئینی کردار ادا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الجزائر میں سیاسی رہ نماؤں اور اپوزیشن شخصیات کے ایک نئے گروپ نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 28 اپریل کو اپنی مدت صدارت کے اختتام پر اس منصب سے سبک دوش ہو جائیں۔

مذکورہ گروپ نے الجزائر کی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ "عوام کے اختیار" میں مداخلت کیے بغیر اپنا آئینی کردار ادا کرے۔ گروپ نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ نگراں مدت کے ختم ہونے پر انتخابات کرائے جائیں۔

دوسری جانب الجزائر میں ڈاکٹروں کی خود مختار تنظیم (CAMRA) نے ملک بھر کے ڈاکٹروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منگل کے روز یوم آزادی کے موقع پر بڑی تعداد میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ اس کا مقصد الجزائر کے صدر بوتفلیقہ پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اپنی چوتھی مدت صدارت میں توسیع نہ کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے تعلیمی سیکٹر کی انجمنوں نے بھی مسلسل کئی روز تک احتجاجی ریلیاں نکالیں اور ہڑتال کی۔

ادھر روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ الجزائر کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ رمطان لعمامرہ آج منگل کے روز ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ بات چیت میں رمطان الجزائر میں صدارتی انتخابات کے ملتوی ہونے کے بعد موجودہ صورت حال سے آگاہ کریں گے۔ اس سے قبل رمطان نے اطالیہ کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے اطالوی وزیراعظم سے ملاقات کی۔

اسی سیاق میں فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے کہا ہے کہ ان کا ملک نئی حکومت کی جانب منتقلی کے حوالے سے الجزائر کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاہم پیرس اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہتا۔

پیرس کے الیزے پیلس میں فرانسیسی دانش وروں کے ایک مجموعے کے ساتھ ملاقات میں ماکروں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے اور الجزائر کے داخلی امور میں مداخلت کی جائے۔

ماکروں کے مطابق وہ بحیرہ روم کے ممالک کے درمیان سربراہ اجلاس کے سلسلے میں جون میں 5 یورپی اور 5 افریقی ممالک کے بیچ ایک سربراہ ملاقات کے انعقاد کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اجلاس میں شمال مغربی افریقا کے ممالک کے امور کو زیر غور لایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں