تیونس کے مفرور صدر زین العابدین کا برادر نسبتی فرانس میں‌ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کی پولیس نے تیونس کے سابق مفرور صدر زین العابدین بن علی کے برادر نسبتی بلحسن الطرابلسی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا ہے۔ عدالت نے انہیں ایک گروپ کی منی لانڈرنگ کا الزام عاید کرتے ہوئے انہیں پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق زین العابدین بن علی اور ان کی اہلیہ لیلیٰ الطرابلسی 2011ء میں ملک میں عوامی بغاوت کے بعد فرار ہو کر سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔ تاہم لیلیٰ طرابلسی کے بھائی سنہ 2016ء تک فرانس میں رہے اور اس کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے تھے۔ حال ہی میں وہ دوبارہ فرانس آئے جہاں انہیں جنوبی فرانس میں مرسیلیا کے مقام سےحراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا گیا۔

ادھر گذشتہ جمعہ کو تیونس کی حکومت سے فرانس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بلحسن طرابلسی کو اس کےحوالے کرے تاکہ اس کے خلاف کرپشن اور دیگر کیسز میں مقدمہ چلایا جاسکے۔

خیال رہے کہ بلحسن طرابلسی اپنے بہنوئی زین العابدین بن علی کے دور حکومت میں تیونس میں ایک بڑی کاروباری شخصیت مشہور تھے۔ تیونس میں ان کی گرفتاری کے لیے 17 وارنٹ اور عالمی سطح پر اس کی گرفتاری کے لیے 43 وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

زین العابدین بن علی 14 جنوری 2011ء کو ملک چھوڑ کر اپنی اہلیہ سمیت چلے گئے تھے جب کہ بلحسن طرابلسی روپوش ہوگئے تھے۔ کینیڈا سے واپسی کے بعد بھی وہ روپوش رہے۔

مئی 2012ء کو انہوں نےمستقل طورپر کینیڈا میں قیام کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کینیڈا کی حکومت سے کہا تھا کہ ان کی زندگی کوخطرہ ہے جس کے بعد انہیں تیونس کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ البتہ ان کی پناہ کی درخواست سنہ 2015ء اور 2016ء میں دوبار مسترد ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں