عبدالعزیز بوتفلیقہ آیندہ منتخب صدر کو اقتدار سونپنے پرآمادہ ہوگئے : نائب وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الجزائر کے نئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ رمطان لعمامرہ نے کہا ہے کہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے مستقبل قریب میں ایک منتخب صدر کو اقتدار سونپنے سے اتفاق کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ آیندہ صدارتی انتخابات کی نگرانی کے لیے قائم ہونے والی حکومت میں حزب اختلاف کو بھی شامل کیا جائے گا۔

انھوں نے ماسکو میں منگل کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ الجزائری حکومت نے عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا اور ان کا جواب دیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ لاروف نے اس موقع پر کہا کہ ماسکو الجزائری حکومت کی حزب اختلاف سے بات چیت کی حمایت کرتا ہے۔

قبل ازیں انھوں نے آج ہی ایک اور بیان میں کہا کہ روس کو الجزائر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں پر تشویش لاحق ہے اور وہ انھیں شمالی افریقا میں واقع اس ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔

الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف گذشتہ ماہ سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ یہ مظاہرے ان کے پانچویں مدتِ صدارت کے لیےامیدوار بننے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور ان کے ردعمل میں انھوں نے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کرنے اور بہ طور امیدوار دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا مگر مظاہرین ان کے اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے ۔انھوں نے اپنا احتجا ج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اب صدر بوتفلیقہ کے ساتھ ان کے قریبی مصاحب عہدے داروں سے بھی مستعفی ہونے کے مطالبات کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں