ڈچ ٹرام میں فائرنگ کے ملزم کی کارسے مشتبہ خط برآمد ، دہشت گردی کا محرک کارفرما تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈچ پراسیکیوٹرز اور پولیس حکام اُتریخت شہر میں ایک ٹرام پر حملے میں دہشت گردی کے محرک کی سنجیدگی سے تحقیقات کررہے ہیں۔انھوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انھیں حملے کے مرکزی مشتبہ ملزم کی کار سے دیگر اشیاء کے علاوہ ایک خط ملا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی مشتبہ ملزم ترک نژاد گوکمین تانس سوموار کو ٹرم پر فائرنگ کے بعد ایک سرخ رنگ کی رینالٹ کلیو کار میں جائے وقوعہ سے بھاگا تھا اور اسی کار سے یہ مشتبہ مواد ملا ہے۔پولیس نے اس 37 سالہ ملزم کے علاوہ اُتریخت سے تعلق رکھنے والے دو اور مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ان کی عمریں بالترتیب 23 اور 27 سال ہیں۔

بیان میں گذشتہ روز ٹرام پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تین افراد کی شناخت بھی جاری کی گئی ہے۔ ان میں ایک 19 سالہ عورت تھی۔اس کا تعلق اُتریخت کے نزدیک واقع علاقے ویانن سے تھا۔باقی دو مرد تھے۔ان کی عمریں 28 اور 49 سال ہیں اور ان دونوں کا تعلق اُتریخت شہر ہی سے تھا۔

پولیس اور پراسیکیوٹرز نے مزید کہا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں مرکزی مشتبہ ملزم اور مہلوکین کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔ قبل ازیں ڈچ اور ترک میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ خاندانی تنازع بھی فائرنگ کے اس واقعے کا سبب ہوسکتا ہے۔

تاہم پولیس اور پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دوسرے محرکات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جارہا ہے اور ان کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔

ڈچ پولیس نے سوموار کو ٹرام میں فائرنگ کے بعد سخت تگ ودو کے بعد مشتبہ ملزم تانس کو اُتریخت ہی سے گرفتار کر لیا تھا۔پولیس نے سوشل میڈیا پر بھی اس کی تصویر جاری کی تھی اور گرفتاری کے وقت ا س کے قبضے سے ایک آتشیں ہتھیار برآمد ہوا تھا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں