تیونسی صدر السبسی آئینی ترامیم کے ذریعے وزیراعظم کے اختیارات میں کمی کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

تیونس کے صدر باجی قائد السبسی نے اپنے منصبی اختیارات میں اضافے کے لیے آئین میں ترامیم پر زور دیا ہے۔وہ وزیراعظم کے بعض اختیارات واپس لینے اور انھیں صدر کو سونپنے کے خواہاں ہیں۔

صدر السبسی نے تیونس کے یومِ آزادی کے موقع پر بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا کہ ’’ صدر کا (امور حکومت میں ) کوئی بڑا کام نہیں ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم کے ہاتھ میں ہیں۔اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ آئین کے بعض ابواب میں ترامیم پر غور کیا جائے‘‘۔

آئین کے تحت صدر کو دفاع اور خارجہ امور پر کنٹرول حاصل ہے لیکن انھیں پالیسی کے اعتبار سے کم اہمیت کے محکمے خیال کیا جاتا ہے۔

تیونس کا موجودہ آئین 2014ء میں عوامی انقلا ب کے بعد پہلی منتخب حکومت نے منظور کیا تھا ۔ یہ حکومت 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد منعقدہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔اس آئین کے تحت صدر کو پہلے ملک میں نافذ آئین کے تحت حاصل بہت سے اختیارات واپس لے کر وزیراعظم اور پارلیمان کو سونپ دیے گئے تھے۔

لیکن صدر باجی قائد السبسی اور وزیراعظم یوسف شاہد کے درمیان گذشتہ سال سے اختیارات کی جنگ چل رہی ہے۔اس کے نتیجے میں گذشتہ سال ستمبر میں صدر کے بیٹے نے وزیراعظم کو معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ واضح رہے کہ یوسف شاہد نے اگست 2016ء میں وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ تیونس میں 2011ء میں عرب بہاریہ تحریک کے نتیجے میں برپا شدہ ا نقلاب کے بعد ساتویں وزیراعظم ہیں اور وہ ان تمام وزراء اعظم میں سب سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہے ہیں۔

خود صدر السبسی نے بھی وزیراعظم یوسف شاہد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انھوں نے اقتدار چھوڑنے کے بجائے اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت النہضہ کے ساتھ مل کر نئی مخلوط حکومت قائم کر لی تھی۔اب تیونس میں اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے اور نومبر میں صدارتی انتخابات ہوں گے لیکن اس سے قبل صدر السبسی ملک کے نئے آئین میں ترامیم چاہتے ہیں۔

تیونس میں آیندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں النہضہ اور وزیراعظم یوسف شاہد کی جماعت تحیہ تونس اور صدر کے بیٹے حافظ قائد السبسی کے زیر ِقیادت ندا تونس پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔تاہم ان تینوں جماعتوں نے ابھی تک اپنے اپنےصدارتی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔

صدر کے بیٹے نے وزیراعظم پر ملک میں افراطِ زر کی بلند شرح ، بے روزگاری اور دوسرے مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہنے کا الزام عاید کیا ہے ۔2018ء میں تیونس میں افراطِ زر کی سالانہ شرح ریکارڈ 7.5 فی صد رہی تھی اور اس کی کرنسی دینار کی قیمت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی تھی جس کی وجہ سے درآمدی غذائی اجناس مزید مہنگی ہوگئی تھیں ۔

تیونس کی 2011ء کے بعد سےجمہوری عمل کے تسلسل پر تو دنیا بھر میں تعریف کی گئی ہے لیکن گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران میں پے درپے نو حکومتیں بنی ہیں مگر وہ افراطِ زر کی بلند شرح اور بے روزگاری سمیت ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کے حل میں ناکام رہی ہیں جس کے پیش نظر ملک میں گاہے گاہے بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں