داعش آج رات ’اُڑنچھو‘ ہوجائیں گے:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش کا آج رات خاتمہ ہوجائے گا۔انھوں نے امریکی ریاست اوہائیو کے دورے سے قبل بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ہاتھ میں دو نقشے پکڑ رکھے تھے۔ ایک نقشے میں 2016ء میں امریکا میں صدارتی انتخابات کی رات داعش کے زیر قبضہ علاقے دکھائے گئے تھے اور ایک میں آج داعش کی ’خود ساختہ خلافت‘ کے زیر قبضہ علاقے کو ظاہر کیا گیا تھا۔

نقشوں میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو سرخ رنگ میں دکھایا گیا تھا اور ان پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا :’’ جب میں نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا لیکن اب کوئی سرخ علاقہ باقی نہیں رہ گیا ہے بلکہ درحقیقت ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے اور یہ بھی آج رات ختم ہوجائے گا‘‘۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا شام کے شمالی مشرقی علاقے میں اپنے چار سو فوجیوں کو برقرار رکھے گا۔

شام کے شمال مشرقی صوبے صوبہ دیر الزور میں امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے آخری ٹھکانے الباغوز پر کنٹرول کے لیے گذشتہ کئی ہفتوں سے فیصلہ کن کارروائی کررہی ہیں لیکن انھیں ابھی تک امریکی اتحاد کی فضائی مدد کے باوجود حتمی فتح حاصل نہیں ہوئی ہے۔

ایس ڈی ایف نے باغوز کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے ۔یہ قصبہ عراق کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہ ایک جانب دریائے فرات اور دوسری جانب پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔یہاں ہر طرف گاڑیاں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایس ڈی ایف کے جنگجو قصبے میں داعش کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری کررہے ہیں جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔

ایس ڈی ایف اور امریکی اتحاد دونوں کا کہنا ہے کہ باغوز میں باقی رہ جانے والے داعش کے جنگجوؤں میں زیادہ تر غیرملکی سخت گیر ہیں۔گذشتہ دو ماہ کے دوران میں داعش کے اس قلعہ نما مرکز سے قریباً 60 ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑ کر دوسرے مقامات کی جانب چلے گئے ہیں ۔ان میں قریباً نصف داعش کے حامی یا ان کے خاندانوں کے افراد تھے اور ان میں بھی قریباً پانچ ہزار داعش جنگجو تھے۔انھوں نے خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کردیا تھا۔

ایس ڈی ایف کا باغوز پر قبضہ داعش کے خلاف شام میں جاری جنگ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔ تاہم علاقائی اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ داعش یہاں شکست سے دوچار ہوجانے کے باوجود بدستور ایک خطرہ رہیں گے۔اس گروپ کے بعض جنگجوؤں نے شام کے وسط میں واقع صحرا میں خفیہ کمین گاہیں بنا رکھی ہیں جبکہ عراق میں بہت سے جنگجو زیر زمین چلے گئے ہیں اور وہ گاہے گاہے حملے یا اغوا کی وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں