سوئس پارلیمان نے شدت پسندوں کو ان کے ملکوں کو حوالے کرنے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی ملک سوئٹرزلینڈ کی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک میں‌موجود شدت پسند عناصر کو دوسرے ملکوں کے حوالے کی منظوری دی ہے، جہاں انہیں ممکنہ طورپر تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوئس حکام نے یہ وضاحت نہیں کہ آیا وہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے کیسے بچ سکتی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق سوئس دستور کے تحت کسی بھی شخص کو اس ملک کے حوالے کیا جاسکتا ہے جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا بھی امکان ہوتا ہے مگر ملک پارلیمان نے معمولی اکثریت سے منگل کو ایک بل کی منظوری دی س کے تحت غیرملکی شدت پسندوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ کیا گیا۔

سوئس ارکان پارلیمان کو داعش کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے سخت مایوس ہیں۔ انہیں خدشہ ہےکہ عراق کے شدت پسندوں کو ان کے ملک کےحوالے کیےجانے سے انہیں وہاں پر غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم ملک کے بعض حلقے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہناہے کہ سوئٹرزلینڈ کو ان افراد کو اپنے ہاں پناہ نہیں دینی چاہیے۔ کنزر ویٹیو ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پابندی ٹیکسوں کی رقم شدت پسندوں کی بہبود پر صرف کرنے کے مترادف ہے۔

سوئس خاتون وزیر انصاف کارین کیلر سوتر نےایوان میں شدت پسندوں سے متعلق بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس طرح کے اقدامات کی حمایت کرے گی مگر ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلی ترجیح میں یہ معاملہ حل کرنا چاہتےہیں مگر ہمیں قانون کی بالادستی کو ہرصورت میں یقینی بنانا ہوگا۔

ان شدت پسندوں نے ایک معذور ملزم بھی شامل ہے جو اس وہیل چیئر پر ہے۔ اس پر 2016ء میں داعش کے ساتھ تعاون کرنے اور دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عایدکیا گیا ہے۔ اسے گرفتار کیا گیا مگر بعد ازاں رہا کرکے ایک پناہ گزین مرکز میں رکھا گیا ہے اور وہ بے دخلی سے بچنے کی کوششیں کررہا ہے۔

رواں ماہ سوئٹرزلینڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ شام اور عراق میں شدت پسندوں میں شامل ہونے والے شہریوں کی واپس آنے میں مدد نہیں کرے گا۔ حکومت کا کہنا تھاکہ ملک کی سلامتی اس کی پہلی ترجیح ہے جس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوسکتی۔

سوئٹرزلینڈ ان ممالک میں شامل ہے جو اقوام متحدہ کے قیدیوں پر عدم تشدد کے معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے میں شامل ممالک کسی بھی شہری کو جسے دوسرے ملک میں ممکنہ طورپر تشدد کا سامنا کرنا پڑے کے حوالے کرنے سے روکتےہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں