وال اسٹریٹ جرنل نے امازون کے مالک اور اس کی محبوبہ کا اسکینڈل کیسے فاش کیا؟

واشنگٹن پوسٹ کے مالک کی فحش تصاویر کی قیمت کس نے کتنی موصول کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکی اخبار'وال اسٹریٹ جرنل' نے "امازون"کمپنی کے مالک جیف بیزوس اور ان کی معشوقہ لورین سانشیز کے درمیان ہونے والے معاشقانہ پیغامات کے تبادلے کی تفصیلات افشاء کی ہیں۔ ان موبائل پیغامات اور اس کے اثرات ونتائج پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان پیغامات میں جیف بیزو کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب پر بے جا تنقیداور الزامات کا بھی پردہ چاک کیا گیا ہے۔

'وال اسٹریٹ جرنل' نے اپنی رپورٹ میں باخبر ذرئع سے امازون کے مالک اور ان کی معشوقہ کے درمیان ہونے والی پیغام رسانی کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مائیکل سانشز نے اپنے ناشر سے ان پیغامات کو شائع کرانے کے عوض 2 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم وصول کی، تاہم سانشز نے اس کی تردید کرتے ہوئےاسے محض افواہ قرار دیا۔ جب اس حوالے سے جیف بیزوس اور ان کی محبوبہ لورین سانشیز سے بات چیت کی گئی تو ان دونوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امازون کے مالک جیف بیزوس کے جنسی اشتعال انگیزی پر مبنی پیغامات اخبار 'نیشنل انکوائرر' میں بھی شایع کیے گئے۔ یہ پیغامات انہوں‌ نے اپنی معشوقہ کو ارسال کیے۔ ان میں ایک پیغام میں سعودی عرب اور وائیٹ ہائوس پر بھی الزامات عاید کیےگئے۔

اس کیس سے با خبر افراد کا کہنا ہے کہ امازون کمپنی کے مالک اور بیزوس سانشیز کے درمیان ہونے والی پیغام رسانی کو معشوقہ کے بھائی مائیکل سانشیز نے دو لاکھ ڈالر میں اخبار'دا انکوئرر' کو اشاعت کے لیے فروخت کیے۔
اس سارے قضیے کے پس منظر میں امریکن میڈیا کمپنی اور مسٹر مائیکل سانشیز نے ملک کے مشہور اخبار اور عالمی ارب پتی کے درمیان ہونے والےتنازع کے بارے میں بھی سوالوں کے جواب دیئے۔ انہوں‌نے یہ بتایا کہ اخبار'انکوائرر نے بیزوس کے پیغامات کیسے حاصل کیے اور ان کی کیا قیمت وصول کی گئی اور یہ تنازع اعلانیہ شکل کیوں کر اختیار کرگیا؟۔

دوسری جانب سانشیز کاکہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے۔ اخبار کے ساتھ ان کا ایک معاہدہ ہے۔ جہاں تک اخبار میں شائع ان کے مبینہ اسکینڈل کی بات ہے تو وہ پرانی باتوں اور افواہوں پر مشتمل ہے جو گم نام ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ جیف بیزوس کے ترجمان نے اس معاملے پر کوئی رائے دینے سے انکار کیااور لورین سانشیز نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیغامات انکوائرر اخبار کو ارسال کرنے سے قبل امریکن میڈیا کمپنی کے ساتھ تنازع پیدا ہوگیا۔ یہ واقعہ گذشتہ جنوری کا ہے جب امریکن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ بیکر اور ان کے ترجمان نے ایک ہوٹل میں اخبار کے مالک سے ملاقات کی مگر اخبار کے ناشر وہاں سے فورا ہی چلے گئے تھے۔

اس کے بعد اخبار نے 'دا انکوائرر' کے چیف ایگزیکٹو سے سات جنوری کو رد عمل معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے دو روز بعد جیف بیزوز نے "ٹویٹر" پر صرف اتنا لکھا کہ 'میں شادی کے 25سال بعد اپنی بیوی ماکنزی سے الگ نہیں ہونا چاہتا'۔

اخبار میں یہ کہانی چند دن بعد شائع ہوئی مگر اخبار کے ایڈیٹروں نے اسری رات انٹرنیٹ پر 'بیزوز کی طلاق! بد دیانتی کی تصاویر جنہوں‌نے رشتہ ازدواج ختم کردیا' کے عنوان سے ایک کہانی شائع کردی۔

مائیکل سانشیزٹی وی چینل میں ماہرین اور جیوری کمیٹی کے رکن کی طرح ایک ٹیلنٹ ایجنٹ تھا۔ وہ طویل عرصے تک اخبار'دا انکوائرر' کا ایک مصدقہ اخباری ذریعہ تھا۔ اس کے علاوہ اخبار کے ایڈیٹر ڈیلان ھوارڈ کا بھی ایک اہم ذریعہ تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹویٹر پر اس کی حمایت کی۔ اس کے امریکا میں بنیاد پرستوں کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں۔

ساشنز نے زرد اخبار کے ساتھ مکالمے کا آغاز گذشتہ برس کیا اور بتایا کہ اس کی ہمشیرہ کے امازون کمپنی کے مالک کے ساتھ 'تعلقات' ہیں۔ اس کے بعد اخبار 'دا انکوائرر' نے اپنے طورپر یہ تحقیق کی کہ آیا بیزوس اور سانشیز کے درمیان 'معاشقہ' ہے۔ سانشیز کا تعارف ایک سابقہ ٹی وی نامہ نگار سےہالی ووڈ میں اس کے شوہر ٹیلنٹ ایجنٹ پیٹرک وائٹزل کے ذریعے ہوا۔ ایٹزل ٹیلنٹ ایجنسی میں کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھا اور ایجنسی کے چیئرمین آری عمانویل کے اخبار'دا انکوائرر' کے ساتھ مراسم تھے۔

بیزو اور لورین سانشزی نے گذشتہ برس بعض منصوبوں میں ایک ساتھ کام کیا۔

گذشتہ برس اکتوبر میں جب اخبار نے'مائیکل سانشیز' سے پیغام رسانی کے مواد کے بارے میں بات چیت شروع کی تو ڈیوڈ بیکر کو اس سارے کیس پر کچھ تحفظات بھی تھے۔ انہیں یہ پریشانی لاحق تھی کہ بیزوس ان کے خلاف عدالت میں نہ چلے جائیں۔ اس کے باوجود اںہوں‌ نے لورین سانشیز اور بیزوس کے درمیان اسکینڈل کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈیوڈ بیکر اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 سال سے ایک دوسرے کے واقف ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگست 2015ء کو ڈیوڈ بیکر نے ٹرمپ کو پیش کش کی تھی کہ وہ ان کی انتخابی مہم کے لیے اخبار میں مہم چلائے گا۔

عام طورپر جب کوئی اخبار کسی مخصوص اسٹوری کو شائع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے شائع کرانے والے سے پیشگی رقم وصول کرتا ہے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لورین سانشیز اور بیزوس کے درمیان مکالمے کی اشاعت کے لیے امریکن میڈیا کمپنی نے اخبار کو پیشگی کی ادائیگی کی تھی یا نہیں۔ مائیکل سانشیز کے ساتھ طے پائے معاہدے میں یہ واضح تھا کہ انہیں پیشگی ادائیگی کی جائے گی مگر اس بات کوئی ضمانت نہیں تھی کہ آیا اخبار ان کی فراہم کردہ معلومات کو من وعن شائع کرے گا۔

نیشنل انکوائرر کے مطابق اخبار اور جیف بیزوس کے درمیان کوئی سیاسی محاذ آرائی یا بلیک میلنگ کا کوئی عنصر موجود نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکن میڈیا نے ایک ماہ تک تقریبا کوئی چیز شائع نہیں کی۔ اس دوران مائیکل سانشیز کو وہی معلومات دوسرے اخباری ذرائع کو مہیا کرنا اور ان سے رقم لینے کا موقع مل گیا۔امریکن میڈیا کو یہ تشویش لاحق ہوئی کہ ڈیوڈ بیکر معلومات خرید لیں گے مگر عمانویل کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیں‌گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں