حوثیوں کے بیانات سویڈن سمجھوتے سے دستبرداری کے غماز ہیں : یمنی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کی قانونی حکومت نے کہا ہے کہ حوثی شیعہ باغیوں کے حالیہ بیانات سویڈن سمجھوتے سے دستبرداری کے غماز ہیں۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان دسمبر میں یہ سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس پر ابھی تک مکمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ حوثیوں نے فوجی کمک کی وصولی اور مختلف علاقوں میں جنگ چھیڑ کر باضابطہ طور پر اسٹاک ہوم سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے‘‘۔

انھوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ’’ وہ حوثیوں پر دباؤ ڈالے تاکہ حدیدہ میں لڑائی کو دوبارہ چھڑنے سے روکا جاسکے‘‘۔

ترجمان نے یہ بیان عدن میں روسی سفیر کی یمنی عہدے داروں سے ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔روسی سفیر نے کہا تھا کہ ماسکو یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور وہ ملک کے عارضی دارالحکومت عدن میں اپنا قونصل خانہ کھولنے پر غور کررہا ہے۔

واضح رہے کہ سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کی ثالثی میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت فریقین نے ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی ، وہاں سے اپنی فورسز کو ہٹانے اور عالمی ادارے کے تحت یمنی حکومت کی فورسز کی تعیناتی سے اتفاق کیا تھا۔

مارٹن گریفتھس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سویڈن سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے جبکہ یمنی حکومت کے ایک ذریعے نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایسی کسی پیش رفت سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں