امریکا کی ترکی کو F-35 طیاروں کی فراہم روک دینے کے حوالے سے نئی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی عہدے داران نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا ترکی کو F-35 طیارے حوالے کرنے کے سلسلے میں جاری خصوصی تیاریوں کو عنقریب روک سکتا ہے۔ یہ واشنگٹن کی جانب سے اس بات کا قوی ترین اشارہ ہو گا کہ ترکی مذکورہ جدید ترین امریکی طیارہ اور روس کا S-400 دفاعی میزائل نظام دونوں کو ایک وقت میں اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔

امریکا نیٹو اتحاد میں اپنے حلیف ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام کی خریداری سے F-35 طیاروں کی سکیورٹی سبوتاژ ہو جائے گی۔

بین الاقوامی امور کے لیے امریکی وزیر دفاع کے معاون کی ناظم الامور کیٹی ویلبرگ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "S-400 کا کمپیوٹر نظام اورF-35 کا کمپیوٹر نظام ... آپ اپنے نظام کو اپنے حریف کے نظام کے ساتھ مربوط نہیں کر سکتے .. ہم بنیادی طور پر اسی کو یقینی بنائیں گے"۔

اگرچہ اس سلسلے میں ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم امریکی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ واشگنٹن اس وقت ترکی کو لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے تیار کردہ F-35 طیاروں کی فراہمی کے سلسلے میں جاری حالیہ اقدامات روک دینے پر غور کر رہا ہے۔

کیٹی ویلبرگ نے مزید کہا ہے کہ "ایسے بہت سے امور جاری ہیں جن کو روکا جا سکتا ہے تا کہ انہیں اشارہ دیا جا سکے (کہ ہم سنجیدہ ہیں)"۔ کیٹی نے ان اقدامات کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

البتہ ایک اور دوسرے امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امریکا ترکی میں ان طیاروں کے انجنوں کے گودام کے لیے متبادل مقامات تلاش کرے۔ ذمے دار کے مطابق ممکنہ متبادل مقامات غالبا مغربی یورپ میں ہوں گے۔ واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت F-35 طیاروں کے انجنوں کی مرمت کا گودام مغربی شہر "اسکی شہر" میں واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں