.

یمن میں امریکی سفیر کا حوثی باغیوں پر سویڈن سمجھوتے پر عمل درآمد میں تاخیر کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعیّن امریکی سفیر نے ایران کی اتحادی حوثی تحریک پر ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی کے لیے سویڈن امن سمجھوتے پر عمل درآمد میں ہونے کا حائل الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مسلح گروپ کے ہتھیار خطے میں دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک خطرہ ہیں۔

امریکی سفیر میتھیو ٹیولر نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں جمعرات کو ایک نشری نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ہمیں حوثیوں کی جانب سے سویڈن سمجھوتے پر عمل درآمد کو تاخیر اور تعطل کا شکار کرنے پر سخت مایوسی ہوئی ہے لیکن مجھے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ( مارٹن گریفتھس) اور وہ جو کچھ کررہے ہیں،اس پر بھرپور اعتماد ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ ہم سویڈن سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں اور یہ دیکھیں گے کہ آیا حوثی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں ۔ہم یمن کے مفادات کے لیے خدمات انجام دینے کو تیار ہیں اور ان کی طرف سے کوئی کام نہیں کرنا چاہتے ہیں جو یمن کو کمزور اور تباہ کرنے کے درپے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کی ثالثی میں یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان دسمبر میں جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کے تحت فریقین نے ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی ، وہاں سے اپنی فورسز کو ہٹانے اور عالمی ادارے کے تحت یمنی حکومت کی فورسز کی تعیناتی سے اتفاق کیا تھا مگر اس سمجھوتے پر ابھی تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

مارٹن گریفتھس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سویڈن سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے جبکہ یمنی حکومت نے ایسی کسی پیش رفت سے انکار کیا تھا۔یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثی شیعہ باغیوں کے حالیہ بیانات سویڈن سمجھوتے سے دستبرداری کے غماز ہیں۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ حوثیوں نے فوجی کمک کی وصولی اور مختلف علاقوں میں جنگ چھیڑ کر باضابطہ طور پر اسٹاک ہوم سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے‘‘۔انھوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ’’ وہ حوثیوں پر دباؤ ڈالے تاکہ حدیدہ میں لڑائی کو دوبارہ چھڑنے سے روکا جاسکے‘‘۔