متنازع ریاست کشمیر میں بھارتی فوجی نے تین ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست جموں وکشمیر میں ایک پیراملٹری فوجی نے اپنے تین ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔

جموں کے ایک اعلیٰ پولیس افسر ایم کے سنہا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جمرات کی صبح فائرنگ کا یہ واقعہ سری نگر سے قریباً 200 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر اُدھم پور میں ایک کیمپ میں پیش آیا ہے ۔وہاں سنٹرل ریزور پولیس فورس کے ایک اہلکار نے اپنے ساتھیوں پر سرکاری رائفل سے فائر کھول دیا اور پھر خود کو گولی مار لی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس وقت وہ اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔وہ ممکنہ طور پر نشہ آور ادویہ کے زیر اثر تھا اور اس نے اسی حالت میں اپنے ساتھیوں پر گولیاں چلائی ہیں ۔

ریاست میں سرگرم انسانی حقوق کی ایک تنظیم جموں وکشمیر اتحاد برائے سول سوسائٹی کے مطابق 2018ء میں 20 بھارتی فوجیوں نے ایک دوسرےکو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا ۔اس طرح کے واقعات میں گذشتہ ایک عشرے میں بھارتی فوجیوں کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔2004ء کے بعد فوجیوں کے ہاتھوں اپنے ساتھی فوجیوں کی ہلاکتو ں کے 80 واقعات رونما ہوچکے ہیں اور 323 فوجیوں نے خودکشیاں کی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متنازع ریاست میں تعینات بھارتی فوجی تناؤ کا شکار ہیں ،انھیں کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی دینا پڑتی ہے ،انھیں ضرورت پڑنے پر چھٹی نہیں دی جاتی۔اس کے علاو ہ وہ خانگی مسائل سے بھی دوچار ہیں۔بھارتی حکام فوجیوں میں تناؤ میں کمی کے لیے یوگا کی مشقیں شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔

دریں اثناء بھارتی فوج کے ترجمان کرنل دیویندر آنند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں سندربانی کے علاقے میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں