القدس کے بعد مقبوضہ وادی گولان بھی اسرائیل کو دینے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد اب شام کے مقبوضہ وادی گولان کے علاقے کو بھی صہیونی ریاست کا حصہ تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل میں ہیں اور ہمیں اس علاقے پر اسرائیل کی عمل داری تسلیم کرلینی چاہیے۔

خیال رہے کہ وادی گولان پرعبرانی ریاست نے سنہ 1967ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا۔ بعد ازاں وادی گولان کو اسرائیل میں ضم کردیا گیا۔ تاہم عالمی برادری وادی گولان پر اسرائیلی قبضے کو ناجائز اورغاصبانہ قرار دیتی ہے۔

ًماضی میں امریکی حکومتی وادی گولان کے حوالے سے خاموشی کی پالیسی پرعمل پیرا رہی ہیں۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر وادی گولان اسرائیل کو دینے کی لابنگ شروع کی ہے۔

ٹرمپ نے "ٹویٹر" پر ایک ٹویٹ کی کہ 52 سال کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ وادی گولان پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرلیا جائے۔ تزویراتی اہمیت کے حامل اس مقام پر اسرائیلی عمل داری خطے میں استحکام کا ذریعہ بنے گی۔

ادھر دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے امریکی صدر کے وادی گولان کے بارے میں بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئندہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم امریکا کے دورے پر واشنگٹن پہنچ رہےہیں۔ وہ وائیٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ کا بیان اور نیتن یاھو کا دورہ امریکا دونوں کی ایک زمانی اہمیت ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ آئندہ ماہ 9 اپریل کو اسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات ہورہےہیں۔ ناقدین امریکا پر نیتن یاھو کی انتخابی جیت میں اس کی معاونت کا الزام عاید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں