ایران کا جوہری معاہدہ تہران کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا اجازت نامہ نہیں : فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کی یورپی کوششوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تہران کے پاس اپنے شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے واسطے سادہ چیک ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ موقف فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں کی زبانی سامنے آیا جو قانون ساز ارکان کے سامنے ایرانی خاتون وکیل نسرین ستودہ کے خلاف جاری قید اور کوڑوں کی سزا پر تبصرہ کر رہے تھے۔ لودریان کا کہنا تھا کہ "محترمہ نسرین کے معاملے کے حوالے سے عالمی سطح پر غصے اور ناراضگی کی لہر موجود ہے اور ہماری حکومت بھی اس عدم اطمینان میں مکمل طور پر شریک ہے"۔

انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والی ایرانی وکیل نسرین ستودہ کے خلاف مختلف عدالتی احکامات کے تحت مجموعی طور پر 38 برس قید اور 148 کوڑوں کی سزا کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق نسرین کے شوہر رضا خندان نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل سے گفتگو میں کی۔

لودریاں نے کہا کہ "ہم نے امریکا کے علاحدہ ہونے کے باوجود جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے ایران کے ساتھ مل کر بھرپور کوششیں کیں۔ تاہم ویانا معاہدے کو برقرار رکھنے کے واسطے ہماری کوشش ایران کے لیے بالخصوص انسانی حقوق سے متعلق امور کے حوالے سے کوئی سادہ چیک نہیں ہے۔ لہذا فرانس محترمہ نسرین ستودہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی انتہائی کوشش کرے گا"۔

نسرین نے مظاہرین سمیت اپوزیشن کارکنان کی قانونی نمائندگی کی تھی۔ اسی طرح انہوں نے اُن خواتین کے دفاع کے لیے بھی مقدمات لڑے جن کو ایران میں لازمی حجاب کے خلاف مہم شروع کرنے پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

نسرین کو گزشتہ برس جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر جاسوسی، ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے، ایرانی سپریم لیڈر کی اہانت اور انسانی حقوق کی ایک غیر قانونی انجمن تشکیل دینے کا الزام عائد کیا گیا۔

ایران کی معروف خاتون وکیل کو پہلی مرتبہ 2010 میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا۔ ان پر قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے پروپیگنڈا اور سازش کرنے کا الزام تھا۔ نسرین کو 6 سال کی مجموعی قید کی نصف مدت گزارنے پر رہا کر دیا گیا تھا۔

نسرین ستودہ کو 2013 میں یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے انسانی حقوق کا ساخاروف ایوارڈ دیا گیا۔

جون 2018 میں ایران کی طرف سے پیرس میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس کو دھماکے کا نشانہ بنانے کی کوشش سامنے آنے کے بعد فرانس نے ایران میں انسانی حقوق کے حوالے سے تہران کے خلاف اپنے موقف کو سخت کر دیا۔

حالیہ چند ماہ کے دوران پیرس اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے ایرانی بیسلٹک میزائلوں کے تجربات کے خطرے کے بڑھ جانے کے حوالے سے خبردار کیا۔ واضح رہے کہ پیرس کا یہ موقف ہے کہ ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس پر ناکام حملے کے پیچھے ایرانی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں