تیل کی برآمدات پر پابندی کی تلافی ، پاسداران انقلاب کا قطر کی مدد سے گیس کا سہارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب قطر کی مدد سے گیس کی فیلڈز کی جانب رخ کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد تیل کی برآمدات پر پابندی اور بڑی مغربی کمپنیوں کے چلے جانے سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنا ہے۔

اس سلسلے میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام "خاتم الانبياء" مرکز جس کی ذیلی کمپنیوں کے پاس ملک میں توانائی کے بڑے منصوبے ہیں ،، اس کے سربراہ سعید محمد کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ قطر کی مدد سے جنوب میں "پارس" گیس فیلڈ میں ترقیاتی پروگرام کے 11 ویں مرحلے میں کام کے واسطے فرانسیسی کمپنی "ٹوٹل" کی جگہ لینے کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایران میں ہائیڈروکاربونیٹس کا مرکزی منصوبہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب امریکی پابندیوں سے فائدہ اٹھا کر ملک کی معیشت پر اپنا غلبہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ گزشتہ برس جوہری معاہدے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی علاحدگی کے بعد ایران کو درپیش بحران کا مقابلہ کرنے اور معیشت کو بہتر بنانے کے سلسلے میں حسن روحانی کی حکومت کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔

پاسداران انقلاب کی قیادت ہمیشہ سے اُس مالی اور تجارتی سلطنت پر فخر محسوس کرتی رہی ہے جو اس نے 1990ء کی دہائی میں قائم کی تھی۔ تاہم موجودہ وزیر تیل اور وزیر توانائی بیژن نامدار زنگنہ کی کوششوں نے توانائی سیکٹر میں اس کو قدم جمانے سے روک دیا۔

جولائی 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری ڈیل طے پانے کے بعد زنگنہ نے تیل اور گیس کے شعبے میں پاسداران انقلاب کو کوئی بھی اضافی منصوبہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس لیے کہ حکومت اس شعبے میں انفرا اسٹرکچر کو فعال بنانے اور اس میں توسیع کی خاطر بڑی مغربی کمپنیوں کی مدد حاصل کرنے کا ارادہ کر چکی تھی۔

ایرانی حکومت جولائی 2017 میں جنوب میں گیس کی ضخیم "پارس" فیلڈ کو ترقی دینے کے سلسلے میں فرانس کی کمپنی ٹوٹل کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ تاہم ایک برس بعد امریکی پابندیوں کے سبب ٹوٹل نے ایران سے چلے جانے کا اعلان کر دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں اور مغربی کمپنیوں کی جانب سے معاہدوں کی منسوخی کے بعد زنگنہ کے پاس اپنی پالیسی پر نظر ثانی کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہا۔ تیل کی برآمد جو گزشتہ برس مئی میں یومیہ 28 لاکھ بیرل کو چُھو چکی تھی وہ یک دم یومیہ 13 لاکھ بیرل تک نیچے آ گئی۔

واضح رہے کہ "خاتم الانبياء" مرکز کے سربراہ سعيد محمد بے ہفتے کے روز قطر کے ساتھ پارس فیلڈ کے مشترکہ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی لاگت 12 ارب ڈالر ہے جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ سے نکالی جانے والی گیس کی یومیہ گنجائش یومیہ 60 کروڑ مکعب فٹ تک پہنچ جائے گی۔

سعید کے مطابق چار مرحلوں پر مشتمل منصوبے میں دو ریفائنریز بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ایرانی ساخت کے 8 پلیٹ فارمز نصب کر دیے گئے ہیں جن کے نیچے 76 کے قریب کنوئیں ہیں۔ منصوبے کے تحت گیس نکالنے کے لیے سمندر میں کنوؤں کی کھدائی 5.25 کلو میٹر گہرائی تک ہو گی۔ اس دوران نکالی جانے والی گیس کو 32 انچ قطر کی 450 کلو میٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں