.

نیوزی لینڈ: مساجد کے شہداء کی نماز جنازہ کے موقع پر مذہبی رواداری کا بے مثال مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد پر دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے افراد کی سرکاری اور عوامی سطح پر آخری رسومات آج جمعے کے روز انجام دی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ہزاروں شہری بھی مسلمان ہم وطنوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے شریک ہوئے۔ گزشتہ جمعے کے روز ہونے والی دہشت گرد کارروائی میں 50 نمازیوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کر دیا گیا تھا۔

اس موقع پر نیوزی لینڈ میں مسجد النور کے امام جمال فودہ نے کہا کہ "نیوزی لینڈ کے شہریوں نے دہشت گردوں کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنا معاشرہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے"۔

شہداء کی نماز جنازہ سے قبل جمعے کے خطبے کے سلسلے میں بیان میں فودہ نے نیوزی لینڈ اور دنیا کی تمام حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر اور خوف و دہشت کی پالیسی کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ "یقینا 50 بے قصور افراد کی شہادت راتوں رات نہیں ہوئی بلکہ یہ اسلام دشمنی اور نفرت اور بعض سیاسی قائدین کی جانب سے اسلام مخالف تقاریر کا نتیجہ ہے"۔

علاوہ ازیں ایک امام نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس کے ذریعے اسلام کا جمال دنیا کے سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صرف اسلام کے شہداء نہیں بلکہ وطن کے شہداء بھی ہیں۔ امام نے نیوزی لینڈ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ٓآپ لوگوں کی محبت اور ہمدردی و یگانگت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیراعظم صاحبہ کے لیے بہت شکر گزار ہوں.. آپ ہم ہی میں سے ایک ہیں .. اور نیوزی لینڈ کی حکومت کا بھی شکریہ"۔

نیوزی لینڈ کی تاریخ میں آج پہلی مرتبہ سرکاری ٹیلی وژن نے نماز جمعہ کا خطبہ براہ راست نشر کیا۔ علاوہ ازیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے سوگ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے اور سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر جمعے کی اذان اور نماز براہ راست نشر کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔

کیوی وزیراعظم نے اپنے ملک کے مسلمانوں سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ متحد ہیں اور ہم ایک جسم کی مانند ہیں۔

یک جہتی کا حجاب

نیوزی لینڈ کے عوام کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کی مہم کے سلسلے میں "اتحاد و اتفاق کی خاطر حجاب" کی کال کا بھرپور اور مثبت جواب دیا گیا۔ اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی غیر مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد نے آج جمعے کے روز مسلمان خواتین کی طرح حجاب پہنا۔ اس اقدام کا مقصد کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں گزشتہ جمعے کو ہونے والے قتل و غارت کو مسترد کرنے سے متعلق جذبات کا اظہار تھا۔ اس موقع پر شہداء کی آخری رسومات میں کیوی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن خود بھی سر پر حجاب کے ساتھ نمودار ہوئیں۔

منتظمین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی اور یگانگت کی خاطر سوشل میڈیا پر#headscarfforharmony کا ٹرینڈ استعمال کرتے ہوئے حجاب کی تصاویر پوسٹ کی جائیں۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے ایک شدت پسند نے گزشتہ ہفتے نماز جمعہ کے دوران کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں گھس کر نمازیوں پر اندھادھند فائرنگ کر ڈالی تھی۔ اجتماعی قتل کے اس بدترین واقعے میں 50 مسلمان شہید ہو گئے۔