.

امریکا نے ایران کے 31 جوہری سائنسدان بلیک لسٹ کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام کے تسلسل کے باعث تہران پر مزید اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے اسلامی جمہوریہ ایران متنازع میزائل پروگرام پرکام جاری رکھے ہوئے ہے اور بار بار کی وارننگ کے باوجود اس نے میزائل تجربات بند نہیں کیے ہیں۔ اس لیے ایران کو اب مزید اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دوسری جانب امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے مزید 14 افراد اور 17 اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک 31 سائنسدانوں پر بھی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

امریکی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت اب تک ایران کے 960 افراد یا شخصیات پر ایرانی فوجی اداروں کی معاونت پر انہیں بلیک لسٹ کر چکے ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور میزائل سازی کے لیے کام کرنے والے ٹیکنیکل ماہرین پر پابندیاں اہمیت کی حامل ہیں اور ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے۔

امریکا کہنا ہے کہ ایران نظریاتی ورثے اور دولت کو وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایرانیوں کو پابندیوں کا ہدف بنا رہےہیں۔

امریکا نے چین اور روس میں ایران کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں، اداروں اور افراد کو بھی بلیک لسٹ کرنا شروع کر رکھا ہے۔