اور اب الجزائر میں وکلاء تحریک ، صدر بوتفلیقہ سے فوری استعفے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الجزائر میں سیکڑوں وکلاء نے ہفتے کے روز صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور ان سے فوری طور پر عہدے سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت الجزائر کے وسطی علاقے میں جمع ہو کر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔انھوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر یہ نعرے درج تھے:’’عوام کی منشا کا احترام کریں‘‘ اور ’’ عدلیہ کو بدعنوان شخصیات سے پاک ہونا چاہیے‘‘۔الجزائر کے مختلف شہروں میں جمعہ کو بھی ہزاروں افراد نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

الجزائر میں 22 فروری سے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد ملک کی فرانس سے آزادی کے بعد سے برسراقتدار سیاسی اشرافیہ ، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔

الجزائری صدر نے دو ہفتے قبل اپنے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے بعد 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پانچویں مدت صدارت کے لیے بہ طور امیدوار آیندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ انھوں نے صدارتی انتخابات ملک میں آئینی اور سیاسی اصلاحات کے لیے قومی کانفرنس کے انعقاد کے بعد کرانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ کانفرنس 2019ء کے آخر میں ہوگی لیکن عوام ان کے اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے اور ان کی اپنی جماعت قومی محاذ آزادی کے بعض لیڈر بھی عوامی تحریک کی حمایت کررہے ہیں ۔

الجزائری صدر سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں کوئی دو ہفتے تک زیر علاج رہے تھے۔ وہ گذشتہ ماہ معمول کے طبی معائنے کے لیے سوئٹزر لینڈ گئے تھے ۔ وہ 2013ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں اور گذشتہ برسوں کے دوران میں کم کم ہی عوام میں نظر آئے ہیں۔ آخری مرتبہ وہ گذشتہ سال اپریل میں دارالحکومت الجزائر میں پہیّا کرسی (وہیل چئیر )پر دیکھے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں