.

داعش کی شکست سے فرانس کے لیے نمایاں خطرہ ختم ہوگیا : عمانوایل ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے کہا ہے کہ شام میں انتہا پسند گروپ داعش کی نام نہاد ’’ خلافت‘‘ کے سقوط سے فرانس میں دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کا نمایاں خطرہ بھی ختم ہو گیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے:’’ آج اٹھایا گیا قدم بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن خطرہ بدستور موجود ہے اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہیے‘‘۔

واضح رہے کہ فرانس میں 2015ء کے بعد دہشت گردی کے حملوں میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے جریدے شارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے میں ہلاک شدہ بارہ افراد بھی شامل ہیں۔اس حملے اور بعد میں فرانس میں دہشت گردی کے دو اور بڑے حملوں کی داعش نے ذمے داری قبول کی تھی۔

ادھر شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں واقع قصبے الباغوز میں آج ہی امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز نے داعش کے خلاف فیصلہ کن معرکے میں اپنی فتح اور داعش کی پانچ سالہ خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔اس نے وہاں سے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے یا انھیں گرفتار کر لیا ہے جبکہ الباغوز کے نواحی پہاڑی سلسلے میں ایس ڈی ایف اور داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے درمیان ابھی لڑائی جاری ہے۔

فرانس کا کہنا ہے کہ اگر داعش دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ امریکا کی قیادت میں اتحاد میں اپنی شمولیت برقرار رکھے گا۔فرانس کے بارہ سو فوجی شام میں موجود ہیں جو کردوں کی قیادت میں شامی جمہوری فورسز کی داعش مخالف جنگ میں معاونت کررہے ہیں۔

فرانسیسی وزارت دفا ع کے ایک ذریعے نے قبل ازیں کہا تھا کہ اگر باغوز کا سقوط ہوجاتا ہے تو تب بھی ہمیں دہشت گردی مخالف لڑائی جاری رکھنا ہوگی۔