.

استنبول :امریکی قونصل خانے کے ترک ملازم کے خلاف جاسوسی کے مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں امریکی قونصل خانے کے ایک ترک ملازم کے خلاف جاسوسی کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے ۔اس ملازم پر الزام ہے کہ اس نے ترک حکومت کے دھڑن تختے کے لیے جاسوسی کی تھی مگر اس پر مقدمہ چلانے سے امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

امریکی قونصل خانے میں مترجم اور ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی میں ملازم کے طور پر کام کرنے والے متین طوپوز کو اکتوبر 2017ء میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ان پر امریکا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق رکھنے کا الزام عاید کیا گیا ہے اور اگر وہ قصور وار ثابت ہوجاتے ہیں تو انھیں عمر قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے ۔

لیکن 59 سالہ طوپوز نے اپنے خلاف عاید کردہ الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’ میں نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھ پر میرے ترجمے کے کام کی وجہ سے اس طرح کا کوئی الزام عاید کیا جائے گا‘‘۔ان کی گرفتاری کے بعد امریکا اور ترکی دونوں کےدرمیان 2017ء میں کوئی دو ماہ تک دوطرفہ ویزا خدمات معطل رہی تھیں۔

طوپوز کے خلاف 78 صفحات کو محیط فردِ جرم عاید کی گئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ان کے 2013ء میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے افسروں سے تعلقات رہے تھے۔ان تحقیقات کے نتیجے میں ترکی کے متعدد اعلیٰ عہدے داروں کو کرپشن کے الزامات میں ماخوذ کیا گیا تھا۔

ترک حکومت نے ان افسروں پر فتح اللہ گولن سے تعلق کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے تحقیقات کے اس عمل کے ذریعے حکومت کے خلاف ’’عدالتی بغاوت‘‘ کی کوشش کی تھی۔ طوپوز کے خلاف تیس درخواست گزاروں میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور بعض سابق وزراء بھی شامل ہیں۔

مگر انھوں نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی میں گذشتہ 25 سال سے کام کرتے ہوئے میں نے بہت سے پولیس افسروں اور سرکاری حکام کو اپنے فون نمبر اور بزنس کارڈ دیے اور ان سے لیے تھے‘‘۔انھوں نے امریکی قونصل خانے میں 1982ء میں سوئچ بورڈ آپریٹر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا تھا اور کوئی ایک عشرے کے بعد انھیں اسسٹنٹ اور مترجم کے طور پر ترقی دے دی گئی تھی اور ان کی خدمات امریکا کی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے ترکی میں موجود اہلکاروں کو سونپ دی گئی تھیں۔

انھوں نے اپنے کام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسدادِ منشیات کی کارروائیوں کے سلسلے میں ترک حکام اور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں رہتے تھے اور امریکی صدر کے ترکی کے دورے کے سکیورٹی انتظامات بھی ان کی ذمے داریوں میں شامل تھے۔

طوپوز نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ پراسیکیوٹرز نے ان کے فتح اللہ گولن سے مبیّنہ تعلق رکھنے والے افسروں سے روابط ہی کو ملحوظ رکھا ہے اور سیکڑوں دوسرے افسروں سے ہونے والی ملاقاتوں اور گفتگوؤں کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ترک ریاست کے سرکاری ملازمین سے رابطے میں ہوتے تھے اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ ان کے گولن سے مبیّنہ روابط کے بارے میں بھی جانتے ہوں گے۔

طوپوز کے وکیل خالد اقلب نے مقدمے کی سماعت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہ اپنے مؤکل کی رہائی کی درخواست کریں گے اور ہماری توقع یہی ہے کہ مسٹر طوپوز کو رہا کردیا جائے‘‘۔منگل کو پہلی سماعت کے موقع پر عدالت میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور جیفرے ہوونئیر اور استنبول میں قونصل جنرل جینیفر ڈیوس بھی موجود تھے۔طوپوز کے خلاف مقدمے کی سماعت جمعرات تک جاری رہے گی۔