.

الجزائری فوج کے سربراہ کا صدر بوتفلیقہ کو حکمرانی کے لیے ان فٹ قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف اور نائب وزیردفاع لیفٹیننٹ جنرل احمد قاید صالح نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو حکمرانی کے لیے ان فٹ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ملک میں گذشتہ کئی ہفتوں سے صدر بوتفلیقہ کی حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کی پہلی مرتبہ کھلے لفظوں میں حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے منگل کو ایک نشر ی تقریر میں کہا کہ ’’ بحران سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ آئین کی دفعہ 102 پر عمل درآمد ہے۔اس کے تحت صدر کو کوئی سنگین بیماری لاحق ہونے کی صورت میں منصبی فرائض ادا کرنے سے قاصر قرار دیا جاسکتا ہے‘‘۔

آئین کی اس دفعہ کے تحت اگر الجزائری صدر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جا تے ہیں تو پھر آئین کی دفعہ 52 کے تحت پارلیمان کے ایوانِ بالا کے چئیرمین عبدلقادر بن صالح 45 روز کے لیے ملک کے عبوری صدر بن سکتے ہیں۔

الجزائر میں منگل کے روز بھی ہزاروں افراد نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔شمالی افریقا میں واقع اس مسلم اکثریتی ملک میں 22 فروری سے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ دارالحکومت الجزائر اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد ملک کی فرانس سے آزادی کے بعد سے برسراقتدار سیاسی اشرافیہ ، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔

الجزائری صدر نے دو ہفتے قبل اپنے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے بعد 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پانچویں مدت صدارت کے لیے بہ طور امیدوار آیندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ انھوں نے صدارتی انتخابات ملک میں آئینی اور سیاسی اصلاحات کے لیے قومی کانفرنس کے انعقاد کے بعد کرانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ کانفرنس 2019ء کے آخر میں ہوگی لیکن عوام ان کے اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے اور ان کی اپنی جماعت قومی محاذ آزادی کے بعض لیڈر بھی عوامی تحریک کی حمایت کررہے ہیں ۔

اب اس تحریک میں وکلاء بھی شامل ہوگئے ہیں اور گذشتہ ہفتے کے روز دارالحکومت الجزائر میں سیکڑوں وکلاء نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور ان سے فوری طور پر عہدے سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا ۔

بوتفلیقہ گذشتہ قریباً بیس سال سے الجزائر کے حکمراں چلے آرہے ہیں ۔وہ پہلی مرتبہ 1999ء میں صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ 71 فی صد ووٹ لے کرصدر منتخب ہوئے تھے۔وہ 2014ء میں چوتھی مرتبہ 81.53 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ فرانس سے 1954 سے 1962 تک الجزائر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں حصہ لینے والے قائدین کی نسل سے رکھتے ہیں ۔ الجزائری لیڈروں کی یہی نسل 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے ۔انھوں نے ملک کو نوّے کی عشرے میں خونریز خانہ جنگی سے نکالنے کے بعد ترقی کی راہ پر ڈالنے میں اہم کردار کیا ہے۔ انھوں نے اسلام پسندوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیا تھا جس سے ملک میں بتدریج استحکام آیا تھا اور اسی کی بدولت الجزائر عرب بہاریہ تحریکوں کے مضر اثرات سے محفوظ رہا تھا۔