.

گولان چوٹیوں کے بارے میں امریکی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی جانب سے شام کے مقبوضہ وادی گولان کے علاقے پر اسرائیل کی خودمختاری تسلیم کرنے پرعالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ وادی گولان کے حوالے سے ٹرمپ کے اعلان سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی مساعی اور زیادہ مشکلات کا شکار ہوسکتی ہیں۔ گولان کے بارے میں امریکی صدر کے اعلان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوگریک نے کہا کہ 'یو این' سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے واضح کیا ہے کہ امریکی اعلان سے گولان چوٹیوں کی متنازع حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گولان چوٹیوں پر اسرائیل کا قبضہ اورصہیونی ریاست کی خود مختاری تسلیم کرلی تھی۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وادی گولان کے حوالے سے عامی ادارے کی پالیسی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پابند ہے اور وادی گولان کے تنازع کے حل کے سلسلے میں اقوام متحدہ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے یون این کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 1981ء میں سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظوری کی تھی جس میں وادی گولان پر اسرائیل کے قبضے کو باطل اور غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکی صدر کے گولان پہاڑی چوٹیوں کے بارے میں اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تازہ کشیدگی پر بھی تشویش کے بعد فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔