.

الجزائر کے انٹیلی جنس چیف بشیر طرطاق مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے انٹیلی جنس چیف بشیر طرطاق نے اپنے عہدے اسے استعفیٰ دے دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق یہ پیش رفت مسلح افواج کے سربراہ احمد قاید صلاح کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں‌ نے آئین کے آرٹیکل 102 کو فعال کرنے پر زور دیا ہے۔ اگر آرٹیکل کو فعال کیا جاتا ہے تو اس کے تحت صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو منصب صدارت کے لیے 'نا اہل' قرار دیا جائے گا۔

الجزائر کی ایک مقامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق طرطاق اور آرمی چیف کے درمیان حالیہ عرصے کے دوران تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

الجزائر میں معمر صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں مرتبہ صدارت کے لیے نامزدگی کے خلاف ایک ماہ قبل ہونے والےا حتجاج کے بعد صدر بوتفلیقہ کو عوام کے سامنے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک ماہ کے بعد آرمی چیف نے زور دیا ہے کہ آئین کے اس آرٹیکل کو فعال کیا جائے جس کی رو سے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو ان کی خرابی صحت اور پیرانہ سالی کی بناء پر کار حکمرانی کے لیے ان فٹ قرار دیا جائے۔

قاید صالح کا شمار الجزائر کی با اثر شخصیات میں ہوتا ہے۔ منگل کو الجزائر کے ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ایک بیان میں‌ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقاء سیاسی استحکام اور دستور کے مکمل نفاذ میں ہے۔ اگر صدر کی صحت انہیں حکومتی امور کیا انجام دہی سے روک رہی ہے تو آئینی سازوں کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ صدر اب ملک کی قیادت کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔