.

برازیل نے اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کیا تو یہ فلسطینی عوام پر حملہ ہوگا: سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برازیلیہ میں متعیّن فلسطینی سفیر نے کہا ہے کہ اگر برازیل نے اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیا تو یہ اقدام فلسطینی عوام پر ایک حملہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی متصور ہوگا۔

فلسطینی سفیر ابراہیم الزیبن نے یہ بیان برازیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر جائیر بولسونارو کے اسرائیل کے سرکاری دورے سے چند روز قبل جاری کیا ہے۔برازیلی صدر 31 مارچ سے 3 اپریل تک اسرائیل کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں ۔انھیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کی بھی دعوت دی گئی ہے لیکن انھوں نے اس کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ۔انھوں نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدا میں اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کردیں گے۔

الزبین نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کسی بھی ملک کی جانب سے اپنے سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ فلسطینی عوام پر بھی ایک حملہ ہوگا‘‘۔

برازیلی صدر اگر اپنے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہیں تو اس کے ان کے ملک کے لیے معاشی مضمرا ت بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ برازیل عرب مارکیٹ کو گوشت کا برآمد کنندہ کا ایک بڑا ملک ہے۔ تاہم برازیلی وزیر خارجہ ایرنسٹو آروجو نے گذشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ابھی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے لیکن کسی بھی ملک کا اپنے سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنا بہت ہی حساس معاملہ ہے کیونکہ اسرائیل تما م مقبوضہ بیت المقدس پر دعوے دار ہے جبکہ فلسطینی مشرقی القدس کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

دنیا کے تمام ممالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یروشلیم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔اب تک امریکا اور گوئٹے مالا نے اس اتفاق رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں۔پیراگوئے نے بھی اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں اس نے اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔اسرائیل اور امریکا اب ہونڈراس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کردے۔