.

عبدالقادر بن صالح الجزائر میں عبوری صدر کے مضبوط امیدوار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائر میں مسلسل کئی سال سے صدر رہنے والے عبدالعزیز بوتفلیقہ کے اقتدار کا سورج غروب ہونے جا رہا ہے۔ گذشتہ روز الجزائری آرمی چیف نے آرٹیکل 102 کے تحت صدر کو ان کی خرابی صحت کی بناء پر منصب صدارت کے لیے نا اہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تو ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ بحث عبدالعزیز بوتفلیقہ کی اقتدار سے علاحدگی اور ان کے جانشین کے حوالے سے جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزائری پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالقادر بن صالح کو عبوری صدر کے عہدے کے لیے موزوں شخصیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسپیکر عبدالقادر بن صالح سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ سفارتی میدان میں بھی طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ اس وقت پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں اور صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے بعد انہیں ملک میں با اثر لیڈر سمجھا جاتا ہے۔

الجزائر کےدستور کے مطابق صدر کی وفات یا حکومت کے اہل نہ رہنے کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کو قائم مقام صدر کا منصب سنھبالنا ہوتا۔ اس اعتبار سے بھی عبدالقادر بن صالح الجزائر کےعبوری صدر بن سکتے ہیں۔

عبدالقادر بن صالح 24 نومبر 1941ء کو ریاست تلمسان میں پیدا ہوئے۔ 77 سالہ بن صالح سنہ 2002ء سے الجزائری مجلس امۃ (پارلیمںٹ) کے اسپیکر ہیں۔ ان کا تعلق وزیراعظم احمد اویحی کی جماعت قومی جمہوری سماج پارٹی سے ہے اور یہ جماعت صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی نیشنل فریڈم فرنٹ کی اتحادی ہے۔

بن صالح نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اخبار'الشعب' کے ساتھ ایک صحافی کی حیثیت سے کیا۔ سنہ 1967ء میں اخبار حکومت کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 1977ء تک انہوں نے اس اخبار کی ادارت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس کے بعد انہوں نے تلمسان ریاست سے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا اور تین مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

سنہ 1989ء میں انہیں سعودی عرب میں الجزائر کا سفیر اور جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم 'او آئی سی' میں مندوب مقرر کیا گیا۔ سنہ 1993ء کو انہیں الجزائری حکومت کا ترجمان بنایا گیا۔ سنہ 1959ء میں وہ فوج میں بھی بھرتی ہوئے۔