.

بنگلہ دیش : دارالحکومت ڈھاکا میں 24 منزلہ عمارت میں آتش زدگی ، 25 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں جمعرات کے روز ایک چوبیس منزلہ ٹاور میں آتش زدگی سے پچیس افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔متاثرہ عمارت میں مختلف نجی اداروں اور کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں ۔ڈھاکا کے آگ بجھانے والے محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ آتش زدگی سے ہلاکتوں میں ا ضافے کا اندیشہ ہے اور امدادی کارکنان آگ سے جل جانے والے دفاتر میں پھنس کر رہ جانے والے افراد کی تلاش میں ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اس کثیر منزلہ تجارتی عمارت میں آگ لگنے کے بعد دفاتر میں موجود افراد کھڑکیوں اور چھتوں سے مدد کے لیے پکار رہے تھے اور امدادی کارکنان سیڑھیوں کے ذریعے ان تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے۔اس دوران میں بہت سے افراد نے کھڑکیوں سے کود کر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کی ہے لیکن ان میں سے بعض اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھے ہیں۔نیچے شاہراہ پر سیکڑوں افراد موجود تھے جو عمارت میں پھنسے ہوئے افراد کا بے بسی کے عالم میں تما شا دیکھ رہے تھے اور ان کی مدد کو نہ پہنچنے پر اپنی بے بسی کا اظہار کررہے تھے۔

حکام کے مطابق آتش زدگی کا شکار ہونے والا ٹاور شہر کے علاقے بنانی میں واقع ہے اور ابھی تک آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔اس میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹروں نے بھی امدادی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔آگ بجھانے والے بائیس یونٹوں میں فوج ، بحریہ ، فضائیہ اور پولیس کے دستے بھی شامل تھے۔فائر سروس کے ایک سینیر افسر میزان الرحمان نے بتایا ہے کہ آگ پر قریباً قابو پالیا گیا ہے۔

اس عمارت میں ایک پرائیویٹ فرم قاسم گروپ کے متعدد دفاتر قائم تھے ۔اس کے ایک سو چالیس ملازمین میں سے کئی ایک نے ملحقہ عمارت کی چھت پر کود کر اپنی جانیں بچائی ہیں۔عمارت کی چار مختلف منازل میں آئی ٹی فرم عامرہ کے دفاتر تھے۔اس کے فنانس مینجر نندا نے بتایا ہے کہ انھوں نے اپنے بیس ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کر جان بچائی ہے۔ایک اور کمپنی کے ملازم نے بتایاہے کہ آگ دوپہر کے وقت نچلی منزلوں سے شروع ہوئی تھی اور پھر اس نے پوری عمارت ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ڈھاکا میں آتش زدگی کا یہ ہولناک واقعہ شہر کے قدیم حصے میں واقع ایک مصروف گنجان بازار میں آگ لگنے کے کوئی ایک ماہ کے بعد پیش آیا ہے۔اُس واقعے میں 71 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ناقدین نے تب حکام پر حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور تعمیرات سے متعلق قوانین کی پاسداری نہ کرانے کا الزام عاید کیا تھا۔