.

سعودی عرب کو جوہری ٹکنالوجی کی فروخت ، ٹرمپ انتظامیہ کا گرین سگنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں وزارت توانائی نے اُن امریکی کمپنیوں کو چھ پرمٹ دینے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے جو سعودی عرب میں جوہری شعبے سے متعلق کام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ڈیلی بیسٹ اخبار کے مطابق اس بات کی تصدیق پرمٹ کی منظوری سے آگاہ دو ذرائع نے کی ہے۔ امریکی وفاقی قانون کا متن یہ کہتا ہے کہ سعودی عرب کو جوہری ٹکنالوجی برآمد کرنے کے لیے متعلقہ کمپنیاں حکومت سے پرمٹ حاصل کریں۔

یہ پرمٹ "Part 810s" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ امریکی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ سعودی عرب میں کام کے منصوبوں سے متعلق مخصوص تفصیلات اور جوہری ٹکنالوجی کے حوالے سے مقررہ معلومات کا انکشاف کریں۔ مثال کے طور پر ایک کمپنی کو کاغذی دستاویزات ، الیکٹرونک میڈیا یا "جان کاری اور تجربے" کی سعودی عرب منتقلی کے لیے "Part 810" کی ضرورت ہو گی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جوہری توانائی کے حوالے سے امریکی حکومت اور امریکی کمپنیوں کی ریاض کے ساتھ بات چیت کہاں تک پہنچی ہے۔ اس دوران ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ دعوی بھی سامنے آیا کہ قومی سلامتی کمیونٹی میں بعض افراد نے ضابطے کے مطابق منظوری لیے بغیر ریاض کے ساتھ انفرادی طور پر جوہری ڈیل پر بات چیت کی کوشش کی۔

امریکی کمپنیوں نے جوہری ٹکنالوجی کے حوالے سے نومبر 2017 میں ریاض کے ساتھ رابطوں کا آغاز کیا تھا۔

ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ امریکا کی کونسی کمپنیوں کو وزارت توانائی کی جانب سے پرمٹ جاری کیے گئے ہیں۔ کانگریس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں کے پاس یہ اختیار ہو گا کہ وہ اس بات کی درخواست کر سکتی ہیں کہ انہیں ملنے والے پرمٹ کو خفیہ رکھا جائے اور وزارت توانائی کے پبلک نوٹس بورڈ پر ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ ذریعے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں "Part 810" حاصل کرنے والی کمپنیوں نے اجازت نامے کو خفیہ رکھنے کی استدعا کی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈیلی بیسٹ ویب سائٹ ماضی میں یہ بتا چکی ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ارکان پوری سرگرمی کے ساتھ "سمجھوتا 123" کے نام سے ایک معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ اٹامک انرجی ایکٹ کے تحت اس سمجھوتے کا مقصد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون کے واسطے ایک جامع ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سمجھوتا ریاض کو جوہری ٹکنالوجی برآمد کرنے والی امریکی کمپنیوں کے لیے ایک رہ نما ثابت ہو گا۔

اٹامک انرجی ایکٹ امریکی جوہری ٹکنالوجی حاصل کرنے والے ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ اس سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد نہیں بنائیں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکا کے مصر، متحدہ عرب امارات اور کینیڈا جیسے ممالک کے ساتھ دو درجن سے زیادہ "سمجھوتا 123" معاہدے ہیں۔