.

الجزائر کے عوام صدر بوتفلیقہ کے تجربے کا اختتام چاہتے ہیں : الباجی قائد السبسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے ملک میں منعقد ہونے والا عرب سربراہ اجلاس کامیابی سے ہم کنار ہو گا۔ بدھ کی شب العربیہ نیوز چینل پر نشر ہونے والے خصوصی انٹرویو میں السبسی نے کہا کہ "ہم اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے حتی الامکان کام کریں گے تا کہ ممکنہ طور پر علاقائی سطح پر اپنے عرب ممالک کے مسائل کے حل کے قریب ضرور آ جائیں"۔

الجزائر کے بحران کے حوالے سے تیونس کے صدر نے زور دے کر کہا کہ "صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اپنی ذمے داری نبھا دی مگر عوام کے نزدیک اب ان کا یہ تجربہ اختتام پذیر ہو جانا چاہیے"۔

السبسی نے مزید کہا کہ "میں نے الجزائر کا دورہ کیا اور بوتفلیقہ سے ملاقات کی۔ وہ میرے پرانے دوست ہیں اور میں اس ملک کے بارے میں اچھی طرح سے جان کاری رکھتا ہوں۔ الجزائر کی خود مختاری کی جنگ کا بڑا کام تیونس میں ہوا"۔

بوتفلیقہ کو اقتدار سے سبک دوش ہونے کی نصیحت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں السبسی کا کہنا تھا کہ "ہم کسی کو سبق نہیں پڑھاتے اور نہ نصیحت کرتے ہیں۔ دیگر ممالک کے امور میں مداخلت ہمارا شیوہ نہیں"۔

انہوں نے واضح کیا کہ الجزائر کے لوگ موجودہ صورت حال کے ساتھ دانش مندی سے نمٹنے پر قادر ہیں۔

تیونس کے صدر کے مطابق شام میں گولان کے مقبوضہ علاقے پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ "دنیا کو پابند نہیں کرتا کہ وہ بھی اس کی پاسداری کرے"۔ السبسی نے باور کرایا کہ مقبوضہ گولان کا علاقہ شام کی اور عرب اراضی ہے اور کسی کے قلم کی جنبش خواہ وہ امریکی کیوں نہ ہو حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عرب سربراہ اجلاس میں امریکا کے اس اقدام کا فیصلہ کن جواب سامنے آئے گا۔

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ڈیل آف دی سنچری کی باتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے السبسی کا کہنا تھا کہ "امریکیوں کی کہی ہوئی ہر بات درست نہیں ہوتی"۔

سربراہ اجلاس میں شام کی غیر حاضری کے حوالے سے تیونس کے صدر کا کہنا تھا کہ "ہم عرب کیمپ میں شام کی واپسی کی امید کرتے ہیں۔ یہ امر عرب لیگ اور عرب ممالک کی موافقت پر موقوف ہے۔ یہ فیصلہ اکیلے تیونس کے ہاتھ میں نہیں ہے"۔

شام اور عراق میں داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے تیونسی شہریوں کے حوالے سے السبسی نے کہا کہ "جو لوگ واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں ان کا استقبال کیا جائے گا مگر ہم پر لازم ہے کہ انہیں عدالت کے سامنے پیش کریں ... یہ لوگ ملک کے لیے ایک خطرہ ہیں لہذا اسی بنیاد پر ریاست ان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی"۔

لیبیا کی صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے تیونس کے صدر نے امید ظاہر کی کہ وہاں امن و استحکام کی واپسی ہو گی۔ انہوں نے لیبیا میں افریقی عرب ممالک یا یورپی ممالک کی بیرونی مداخلت کو یکسر مسترد کر دیا۔

السبسی کے مطابق تیونس کا لیبیا میں کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ لیبیا کے عوام اپنی قیادت کا انتخاب کرے"۔