.

ایران سے تیل کی خریداری پر چھوٹ ختم، مزید پابندیاں عاید کریں گے :امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے مندوب برائے ایرانی امور برین ہُک نے کہا ہے کہ ایران سے تیل کی خریداری کے لیے بعض ممالک کو دی گئی چھوٹ مئی میں ختم ہوجائے گی۔ ان ممالک کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی بلکہ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

'وائس آف امریکا' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برین ہک نے کہا کہ ایران نے خطے میں عدم استحکام، دوسرے ممالک میں مداخلت اور دہشت گردی کی پشت پناہی کی پالیسی ترک نہیں کی۔ اس لیے تہران کے ساتھ اب مزید کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی بلکہ نئی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں برین ہک کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس نومبر میں 8 ممالک جن میں ایشائی ملک چین، کوریا، جاپان اور تائیوان شامل تھے کو ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی مئی تک اجازت دی گئی تھی۔ اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکی عہدیدارکا کہنا تھا کہ ایران سے تیل کی خریداری پر دی گئی چھوٹ ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اس کی وجہ تیل کی بھاری قیمتیں اور عالمی منڈی کو پہنچنے والے نقصان سے بچانا ہے۔

انہوں‌نے کہا کہ ایران سے صرف ایک ملین بیرل تیل خرید کرنے کی اجازت ددی گئی تھی۔ یہ اس لیے کیا گیا تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو گر اس کا کوئی فایدہ نہیں ہوا۔

مسٹر ہک کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2019ء عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا ایرانی تیل کی خریداری کو صفر تک لانا چاہتا ہے۔

ایران سے تیل کی خریداری کے لیے دی گئی مہلت 2 مئی کو ختم ہوجائےگی۔ اس حوالے سے وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ باہمی مشاورت سے حتمی فیصلہ کریں‌گے۔

ایرانی پاسداران انقلاب پر پابندیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے مالیاتی نظام کو وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول اور دہشت گردی کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں‌نے کہا کہ امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کی کئی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرکے ایران کو 80 کروڑ ڈالر کی آمدن سے محروم کیا ہے۔