.

ترکی : لیرہ کی قدر میں گراوٹ کے بعد غیر ملکی بینکوں کو مقامی کرنسی دینے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار "دی گارڈین" کے مطابق ترکی کی فنانشل مارکیٹس کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ اس رجحان نے ملکی معیشت کو کساد بازاری سے بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بے نقاب کر دیا ہے اور عالمی معیشت کی سست روی کی روشنی میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس کی صورت حال کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے بدھ کے روز ترکی کی بینکوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ غیر ملکی مالیاتی اداروں کو لیرہ نہ دیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں لیرہ خریدنے کی لاگت میں راتوں رات 1000% کا اضافہ ہو گیا۔

لیرہ کی شکل میں لین دین کے لیے کوشاں غیر ملکی بینکوں اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی بینکوں نے لیرہ کے حصول کے لیے ان کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

رپورٹوں کے مطابق لیرہ کی سیالیت پر روک ترکی کی حکومت کی ہدایت پر لگائی گئی تا کہ مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کو روکا جا سکے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے لندن میں ایک مالیاتی تجزیہ کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی کے بینکوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ احکامات ملے ہیں کہ غیر ملکی بینکوں کو ایک لیرہ بھی نہ دیا جائے۔

ترکی میں مرکزی اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس بدھ کے روز 5.7% کمی کے ساتھ بند ہوا۔ یہ جولائی 2016 کے بعد کسی بھی ایک دن میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کے بینکوں کو بیرون ملک لیرہ فراہم کرنے سے روک دینے سے ترکی کے مسائل کے تھم جانے کا امکان ہے تاہم ترکی گزشتہ برس مسائل سے دوچار ہونے والی اولین ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں سے تھا۔

ایردوآن نے جمعرات کے روز مرکزی بینک پر زور دیا تھا کہ وہ شرح سود میں کمی کرے ورنہ افراط زر کی سطح بلند رہے گی۔ انقرہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ لیرہ کی مارکیٹ میں الٹ پلٹ کا تعلق امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے ترکی کی معیشت پر کیے جانے والے "حملوں" سے ہے۔

اس سے قبل گزشتہ اتوار کے روز اپنے خطاب میں ایردوآن نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا تھا کہ انہیں لیرہ کے خلاف سٹے بازی کی "بھاری قیمت" چکانا ہو گی۔ اس اعلان نے عالمی سرمایہ کاروں کے اندر اندیشے پیدا کر دیے۔

ادھر ترکی کے بینکوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ نے حکومتی دباؤ سے متعلق رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی کے حوالے سے فیصلے تجارتی کارروائیوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین اور اصول و ضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے۔

فنانشل ٹریڈنگ کمپنی XTB کے سینئر تجزیہ کار ڈیوڈ شیتھم کا کہنا ہے کہ "ترکی کے حوالے سے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مارکیٹ کی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس طرح کی تدابیر کا انجام ہمیشہ رنجیدہ کر دینے والا ہوتا ہے۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ رواں ماہ کے آخری روز مقامی انتخابات سے قبل قومی کرنسی کی سپورٹ کے لیے یہ آخری کوشش ہے"۔

سال 2018 کی دوسری شش ماہی کے دوران ترکی کے کساد بازاری کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد کرنسی کی سطح کے حوالے سے اندیشوں نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ اس حوالے سے مرکزی بینک لیرہ کو سپورٹ کرنے کی خاطر شرح سود 24% تک بڑھانے پر مجبور ہو گیا۔