.

جرمنی یمن جنگ کے اتحادی ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے یمن میں آئینی حکومت کی رٹ کی بحالی کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد کو اسلحہ کی فروخت پر آمادی ظاہر کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمنی کی گرین پارٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد کو 40 کروڑ یورو مالیت تک کا اسلحہ فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اخبار'دی اسپیگل' کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی جانب سے تین چوتھائی اسلحہ کہ برآمد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو کی جائے گی۔ یہ دونوں‌ملک یمن جنگ میں پیش پیش ہیں اور سعودی عرب نے سنہ 2015ء کو امارات اور بعض دوسرے عرب ممالک کو ساتھ ملا کر ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا۔

سعودی عرب اور امارات یمن کی جنگ میں اپنے 100 جنگی طیارے استعمال کرچکے ہیں۔پابندی کے بعد پہلے سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو 39 کروڑ 80 لاکھ یورو کا اسلحہ فروخت کیا جائے گا۔ اس حوالےسے 57 ملین یورو کا اسلحہ فروخت کرنے کے لیے 68 اجازت نامے جاری کیے جاچکے ہیں۔ جلد ہی سعودی عرب 255 ملین یورو کے اسلحہ کے حصول کے 10 پرمٹ حاصل جرے گا۔

جرمنی کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی اور کریسچین ڈیموکریٹک الائنس نے بھی سعودی عرب اور دوسرے ممالک کو اسلحہ کی فروخت میں نرمی پرغور شروع کیا ہے۔ جرمنی کی طرف سے سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کو یمن میں جنگ چھیڑنے کے الزام کے بعد اسلحہ کی فروخت پر پابندی عاید کردی تھی مگر فرانس اور برطانیہ نے اس پابندی پر سخت تنقید کی ہے۔