.

لندن : قتل کی واردات کے بعد پولیس نے مرکزی مسجد کو بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی دارالحکومت لندن کے وسطی علاقے میں بڑی مرکزی مسجد کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک شخص کے قتل کے بعد پولیس نے مسجد کو بند کر کے اس کو سکیورٹی گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جمعرات کی شب مسجد کے اندر عشاء کی نماز نہیں ہو سکی۔ واقعے کے بعد علاقے میں اس اندیشے کے سبب خوف و ہراس پھیل گیا کہ کہیں یہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واسطے کوئی دہشت گرد کارروائی نہ ہو۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز مغرب اور عشاء کے درمیان برطانوی پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ مسجد کے نزدیک چاقو سے وار کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس پر پولیس فورس نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر مسجد کا گھیراؤ کر لیا۔ جائے مقام پر ایک شخص خون میں لت پت شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا دم توڑ گیا۔ دوسری جانب مرکزی مسجد کے ایک ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ واقعے کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں اور مسجد پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ ذریعے نے اس مفروضے کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی دو ہفتے قبل نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں نمازیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی جیسی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرنے والے ذریعے نے واضح کیا کہ دو افراد نے مسجد کے قریب ایک شخص پر حملہ کیا اور پھر وہاں سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس مسجد کو بند کر کے اس کو گھیرے میں لینے پر مجبور ہو گئی۔ اس طرح کی معلومات بھی موصول ہوئیں کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے دونوں مشتبہ افراد ممکنہ طور پر مسجد کے اندر چھپ گئے۔

اس مرکزی مسجد کو برطانیہ کی سب سے بڑی مسجد شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک کتب خانہ، اسلامک اسکول، شاپنگ سینٹر اور ایک ریستوران شامل ہیں۔ یہاں سیکڑوں افراد پانچوں وقت کی نماز ادا کرنے کے واسطے آتے ہیں۔

لندن میں پولیس نے اس امر کو خارج از امکان قرار دیا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کی کارروائی تھا۔