.

یمن جنگ میں فرانس سعودی نیوی کے شانہ بہ شانہ رہا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے آن لائن اخبار'میڈیا پارٹ' نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ فرانسیسی فوج سعودی عرب کی بحریہ کے لیے اسلحہ سازی اور مسلح امداد میں‌پیش پیش رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2014ء میں مرمتی سرگرمیوں کے بعد سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کم کردی تھی مگر فرانس کے 'نافال جنرل گروپ' نے سعودی عرب کے جنگی بحری جہازوں کی تجدید میں معاونت کا عہد کیا ہے۔

سعودی بحریہ

بحر الاحمر کی ایک مرکزی بندرگاہ پرکئی ماہ تک تعینات رہنے والے 'گییوم' نے بتایا کہ مجھے حالیہ چند برسوں کے دوران جدہ میں سعودی بحریہ کے ساتھ جنگی جہازوں کی تیاری میں کام کا موقع ملا۔انجینیر گییوم کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے عہدیدار کوینٹین نے بھی جدہ میں سعودی عرب کو دیئے گئے فرانسیسی بحری جہازوں کو اپ گریڈ کرنے میں مقامی عملے کی رہ نمائی پر مامور رہے۔ اس عرصے میں بہت سے حیران کن واقعات بھی رونما ہوئے۔ سعودی عرب نے بحری جہازوں کو اپ گریڈ کرانے کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کی۔

اخبار کے مطابق 'گییوم' اور 'کوینٹین' نے بتایا کہ فرانسیسی اسلحہ ساز اداروں اور کمپنیوں نے سعودی عرب نے وسیع سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ سعودی عرب نے اندرون اور بیرون ملک بحری جہازوں کی تیاری پر زیادہ توجہ اس وقت مرکوز کی جب یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی شرو ع کرنا پڑی۔ اس طرح فرانسیسی اسلحہ ساز کمپنیاں اور دیگر ادارے سعودی عرب کی نیوی کو یمن جنگ میں معاونت کےلیے پیش پیش رہے۔

مذکورہ دونوں شخصیات کئی سال تک سعودی عرب کی نیول فورسز کو بحری جنگی جہازوں کی تیاری اور انہیں زیادہ سے زیادہ موثر اور محفوظ بنانے کے لیے مقاملے عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے جدہ کی فوجی بندرگاہ پر کئی پرانے جہازوں کی مرمت میں بھی مدد کی، یہ بندرگاہ بحری جہازوں کی نقل وحرکت روکنے کے لیے مختص "dry-docks" اور انجینیرنگ، انتظامی سروسز، کارخانوں، پرزہ جات کے گوداموں اور دفاتر پر مشتمل ہے۔ یہ مراکز ماضی میں "DCNS" کے نام سے مشہور نافال گروپ کی زیرنگرانی کام کرتا ہے۔ اس بندرگاہ پر سعودی عرب کے ملکیتی 62 اعشاریہ 2 فی صد جہازوں اور نیوی کے ہتھیاروں کو اپ گریڈ کیا جاتا ہے۔

سنہ 2013ء کو نافال گروپ نے سعودی عرب میں کام شروع کیا۔ اس وقت اس میں 13 ہزارملازمین کام کررہے تھے اور اس کی مصنوعات کی فروخت کا حجم 6 ارب 30 کروڑ یورو تھا۔ اس گروپ نے سعودی بحری بیڑے کو جدید سے جدید تر بنانے اور عالمی سطح پر بحریہ کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق اس میں ضروری ترامیم کیں۔

الشجیۃ بحری جہاز

سعودی عرب کی حکومت نے 'اراو' ڈیل کے تحت نئی جنریشن کے تین بحری جہازوں کو اپ گریڈ کرانے کی درخواست کی۔ یہ تینوں بحری جہاز فرانس کی طرف سے سعودی عرب کو دیئے گئے ہیں۔ جہاں تک 'الشجیۃ' نامی بحری جہاز کی بات ہے تو وہ جدید ٹیکنالوجی کا ایک نفیس نمونہ ہے۔ یہ جہاز Sawari 2 معاہدے کے تحت نئی صدی کے اوائل میں سعودی عرب کو دیا گیا۔