افغان نائب صدر عبدالرشید دوستم قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ، چار محافظ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں جبکہ حملے میں ان کے چار محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔ گذشتہ سال خودساختہ جلاوطنی سے افغانستان واپسی کے بعد ان پر یہ دوسرا قاتلانہ حملہ ہے۔

دوستم کی جنبش پارٹی کے ترجمان بشیر احمد تینج نے کہا ہے کہ نائب صدر کے قافلے پر شمالی افغانستان میں ایک مرکزی شاہراہ پر حملہ کیا گیا ہے۔وہ اس وقت صوبہ بلخ میں واقع شہر مزار شریف سے صوبہ جوزجان کی جانب جا رہے تھے۔

ترجمان نے حملے میں ان کے ایک محافظ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دو محافظ زخمی ہوگئے ہیں ۔وہ اس حملے کی منصوبہ بندی سے آگاہ تھے اور انھوں نےا س کے باوجود سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر پر انگریزی اور پشتو زبانوں میں جاری کردہ ایک مختصر بیان میں اس قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’جنرل دوستم کے قافلے پر بلخ اور جوزجان کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ پر ہفتے کو بعد از دوپہر ضلع چہار بولک میں حملہ کیا گیا تھا۔اس کے نتیجے میں ایک گاڑی اور ایک پک اپ ٹرک تباہ ہوگیا ہے،ان کے چار محافظ مارے گئے ہیں اور چھے زخمی ہوگئے ہیں ،اس کارروائی میں کوئی ’’مجاہد‘‘ زخمی نہیں ہوا ہے‘‘۔

آٹھ ماہ قبل عبدالرشید دوستم پر کابل کے ہوائی اڈے پر خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔اس حملے کی داعش نے ذمے داری قبول کی تھی۔تب وہ ترکی میں کوئی ایک سالہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد وطن لوٹے تھے۔ان پر اپنے ایک سیاسی حریف کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ امریکا سمیت مغربی ممالک کے دباؤ پر ملک چھوڑ کر ترکی چلے گئے تھے۔

وہ نسلی اعتبار سے اُزبک ہیں ۔ان کی جماعت جنبش کو اُزبکوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔وہ وطن واپسی کے بعد افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی انتخابی ٹیم میں شامل ہوچکے ہیں ۔عبداللہ عبداللہ 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طور امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں